خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 376

خلیج کا بحران — Page 276

۲۷۶ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء اسرائیل ! ہم نے تمہیں فلاں فلاں وقت بھی کہا تھا کہ تم عرب علاقہ واپس کر دو اور تم اب تک اس میں جمے ہوئے ہو ہم اس کو نہایت ہی غصے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ہم یہ بات پسند نہیں کرتے۔پھر ریزولیوشن پاس ہوتا ہے کہ اے اسرائیل! ہم نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ ہم برا منائیں گے اور ہم برا منا رہے ہیں۔پھر ریزولیوشن پاس ہوتا ہے کہ ہم نے پہلے بھی دو دفعہ بتایا تھا کہ ہم بہت برا منا رہے ہیں اور ہم ایسے اقدام کرنے پر مجبور ہونگے جس سے تم پر ثابت ہو جائے کہ ہم برا منا رہے ہیں اور پھر ریز ولیوشن پاس ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے کہا تھا ہم اب مجبور ہو گئے ہیں تمہیں یہ بتانے پر کہ ہم بہت ہی برا منا رہے ہیں۔اس کے سوا کوئی ریزولیوشن پاس نہیں ہوا۔یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہمارے ہاں U۔P کے متعلق یہ لطیفہ ہے کہ وہاں لوگ ذرا لڑائی سے گھبراتے ہیں تو U۔Pوالے کو جب کوئی مارے اور مارنے والا طاقتور ہو تو وہ اس کو کہتا ہے کہ اب کے مار۔اب مار کے دیکھے وہ دوبارہ مارتا ہے تو کہتا ہے ”اب کے ماڑ پھر دبارہ مارتا ہے تو کہتا ہے ”اب کے مار‘ چنانچہ یہ لطیفہ تو شاید فرضی ہوگا۔U۔P کے بڑے بڑے بہادر لوگ ہیں، جیالے ہیں، بڑے بڑے مقابلے انہوں نے دشمنوں سے کئے ہیں مگر یہ لطیفہ United Nations کے حق میں ضرور صادق آتا ہے۔ہر دفعہ اسرائیل مار پر ماردیتا چلا گیا ہے اور کھلم کھلا بغاوت کے رنگ میں کہتا رہا ہے تمہارے ریزولیوشنز کی حیثیت کیا ہے۔ردی کا کاغذ ہے میں پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں گا۔میں پاؤں تلے روند دوں گا اور ہر دفعہ United Nations کہتی ہے اب کی مار۔اب اگر تم نے ایسا کیا تو ہم بہت ہی برا منائیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ کیوں یہ پاگل پن ہو رہا ہے۔کوئی حد ہوتی ہے۔یہ نا قابل فہم باتیں ہیں۔یقین نہیں آسکتا کہ دنیا میں یہ کچھ ہوسکتا ہے لیکن ہو رہا ہے۔اسرائیلی دہشت گردی کے بارہ میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید ہوگا۔1۔The Israeli Connection by Be jamin - llallahmi۔2۔Israeal's Fateful Decisions By Yohosharfal Karkahi۔3۔BY Way of Deception By Ex۔Director of Mosad۔4۔Making of Israel By James Cameron۔5۔Dispossessed By David Gilmour۔