خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 376

خلیج کا بحران — Page 275

۲۷۵ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء تو ان کی تعداد بھی ۲۷ بنتی ہے جو پاس ہوئے اور ان میں سے اکثر میں امریکہ نے Abstain کیا ہے جن ریزولیوشنز کی زبان بہت زیادہ سخت تھی ان کو تو پاس ہی نہیں ہونے دیا جن میں مذمت ہی کی گئی تھی ، زبان بہت سخت نہیں تھی ان میں امریکہ الگ رہا اور ان کی تائید میں ووٹ نہیں ڈالا اور 242 جس کا ذکر آپ نے بہت سنا ہوا ہوگا وہ ریزولیوشن جس میں اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ 67 ء کی ہتھیائی ہوئی اپنی زمینیں واپس کرو۔اس ریزولیوشن کو پاس کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایسی عبارت داخل کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کے حمایتیوں کے ہاتھ میں ایک ہتھیار آ گیا ہے کہ جس طرح چاہیں اس ریزولیوشن کا مطلب نکال لیں۔صرف وہ ایک ریزولیوشن ہے جس پر امریکہ نے اثبات کیا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کیوں ہو رہا ہے عقل بھنا جاتی ہے کہ یہ قابل فہم بات دکھائی نہیں دیتی۔کیوں آخر اس طرح ہوتا چلا جارہا ہے؟ کیا مقصد ہے امریکہ کا اسرائیل کی اس طرح۔پر زور حمایت کرنے کا ؟ اسرائیل کے خلاف مذمت کے جوریزولیوشنز سیکیورٹی کونسل میں پاس ہوتے رہے ان کے مطالعہ سے ایک اور دلچسپ بات میرے سامنے یہ آئی کہ ان ریزولیوشنز کے رویے میں اور عراق کے خلاف ریزولیوشنز کے رویے میں زمین آسمان کا ایک فرق ہے۔عراق کو سانس نہیں لینے دیا گیا۔موقعہ ہی نہیں دیا گیا۔ایک طرف یہ ریزولیوشن پاس ہوا کہ Sanctions ہوں۔خوراک بند ہو جائے، دوائیاں تک بند ہو جائیں، کوئی چیز کوئی پتا بھی داخل نہ ہو سکے اور Sanctions ابھی کچھ عرصہ جاری ہوئی تھیں تو فیصلہ کر لیا گیا کہ اب اس پر حملہ کیا جائے۔امر واقعہ یہ ہے کہ Sanctions سے بہت پہلے حملے کا منصوبہ مکمل ہو چکا تھا۔Sanctions کا مطلب یہ تھا کہ حملے سے پہلے بھوک سے مارا جائے اور ضرورت کی اشیاء کی نایابی کا عذاب دے کر مارا جائے۔یہاں تک کہ بعد میں بچوں کے دودھ پلانٹ پر بھی حملہ ہوا تو یہ اس کا مقصد تھا۔اس رویے میں اور اس رویے میں جو اسرائیل کے عدم تعاون کے بعد سیکیورٹی کونسل نے اختیار کیا زمین آسمان کا فرق ہے۔ان کے ریزولیوشنز کی زبان یہ بنتی ہے کہ دیکھو