خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 376

خلیج کا بحران — Page 252

۲۵۲ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء کو ذلیل کیا جا سکتا ہے اور انسانوں کی خاطر اپنے مفادات کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔پس یہ ذمہ داری اور ارتکاب جرم میں پورے شریک ہیں۔اگر آج حساب نہیں لیا جائے گا تو کل لا زماً ان کا حساب لیا جائے گا۔جو فوائد یا نقصانات ہوئے ہیں۔نقصانات تو میں نے بیان کر دیئے ہیں لیکن کچھ اور بھی نقصانات ہیں اور فوائد بھی ہیں بعض عراق کو تو یہ فائدہ پہنچا ہے کہ اس نے ایک بڑی طاقت کا تکبر تو ڑا ہے اور جنگ میں جانے کی وجوہات میں ایک یہ بھی وجہ بیان کی جاتی ہے بعض قابل مبصرین کی طرف سے کہ در اصل صدر بش اور امریکہ کو ویت نام کمپلیکس کھا گیا ہے۔ویت نام میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ گزر چکا تھا۔ویت نام میں امریکنوں نے اتنی بمباری کی ہے کہ عراق سے پہلے کہیں اتنی خوفناک بمباری نہیں ہوئی تھی اور دیہات کے دیہات صاف کر دئیے۔اس قدر زندگی تلف کی ہے اس قدر ا قتصادیات کو برباد کیا گیا ہے کہ یک طرفہ ایسا ظلم انسانی تاریخ میں کم دکھائی دیتا ہے کہ پورے بڑے وسیع ملک پہ ہو رہا ہو لیکن اس کے باوجود اس قوم کی عظمت کردار کو تو ڑ نہیں سکے۔ان کا سر نہیں جھکا سکے۔وہ قوم مرتی چلی گئی ہے اور لڑتی چلی گئی ہے لیکن امریکہ کی خدائی کے سامنے اس نے سجدہ نہیں کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر ان کا عزم ٹوٹا ہے۔ان کا تکبر ٹوٹا اور اپنا مقصد حاصل کئے بغیر ان کو ویت نام خالی کرنا پڑا۔وہ جو ویت نام کی باتیں آپ سنتے ہیں ان میں بعض دفعہ اکثر لوگوں کو غلط نہی ہوتی ہے کہ شاید American Public Opinion رائے عامہ انسانی ہمدردی کی وجہ سے اپنی حکومت کے پیچھے پڑی ہے کہ اتنی جانیں تم نے وہاں تلف کر دیں اب دوبارہ نہ کرنا ، ہرگز یہ بات نہیں ہے۔ویت نام میں ایک کروڑ آدمی مر جائیں American Public Opinion کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔اتنی بھی نہیں ہوگی جتنی مرغابیاں مرنے سے ان کو ہوتی ہے لیکن امریکن جانوں کی تلفی اور امریکن تکبر کو چیلنج کرنا یہ ان کے لئے ایک ایسا روحانی عذاب بنا ہوا ہے جو یہ مضم نہیں کر سکتے تھے۔