خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 376

خلیج کا بحران — Page 247

۲۴۷ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء کہتا ہے، بالکل جھوٹ ہے، کویت شویت کا جو بہانہ ہے کہ اس کی آزادی کی خاطر ہم مرے جارہے ہیں یہ سب بالکل بکواس ہے۔Though that is to be Desired ہاں ہو جائے تو بڑا اچھا ہے، کیوں نہیں Though that is to be Desired,or to Defend Saudi Arabia, Though that is Important نہ ہی ہم اس غرض سے گئے ہیں وہاں یا جارہے ہیں کہ سعودی عرب کی حفاظت کریں اگر چہ یہ بھی ایک اہم بات ہے۔“ It is because President Sadam is a menace to vital western interests in the Gulf, above all the free flow of oil at market prices, which is essential to wests prosperity۔(Socilaist Standard) London, November, 1990۔که در حقیقت مغرب کے ان تیل کے چشموں پر جو خلیج میں بہتے ہیں حقوق ہیں اور ہم ان حقوق کی حفاظت کی خاطر جارہے ہیں اور یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ صدام حسین ان کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے کھیلئے لیکن در حقیقت یہ پورا اعتراف نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ان مقاصد میں اسرائیل کو عراق کے خطرے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ کرنا اور اسرائیل پر سے Threat یہ دھمکی دور کر دینا ہمیشہ کے لئے کہ کوئی مسلمان ملک اس کو چیلنج کر سکتا ہے ، یہ ایک سب سے بڑا مقصد تھا اور ویسے اس مقصد کا تیل کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے کیونکہ اسرائیل کے قیام کی غرض میں ایک غرض یہ بھی شامل تھی کہ مسلمان ممالک کے اوپر ایک پہریدار بٹھا دیا جائے جو جب بھی ضرورت پڑے ان کی گوشمالی کر سکے۔جب وہ مسلمان ممالک بات نہ مانیں تو پھر ان کو سبق سکھانے والا ایک نمائندہ موجود رہے۔جنگ کے نتیجہ میں ہونے والا نفع و نقصان اب میں آپ کو جنگ کے نفع و نقصان کا بتاتا ہوں 8905 بلین ڈالر خرچ ہو چکا ہے اس میں