خلیج کا بحران — Page 243
۲۴۳ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء ذمہ دار قوم کے طور پر شمار ہوگا کیونکہ یہ مسئلہ فی ذاتہ بالکل ناجائز اور کچھ مسئلہ بننے کا حق ہی نہیں رکھتا۔کسی کے ملک میں جا کر کسی اور قوم کو وہاں ٹھونس دو اور ان کی مرضی کے خلاف اور پھر خود اپنے مینڈیٹس Mandates کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ظلم پر ظلم کرتے چلے جاؤ اس کے لئے تو کوئی جو از کسی قسم کا نہیں ہے۔چونکہ سب سے بڑا کردار انگریزی قوم نے اس میں دکھایا اس لئے انگریزی قوم ہمیشہ اس ذمہ داری میں شریک رہے گی لیکن ضمناً میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ انگریزی قوم ساری کی ساری شروع میں اس کا رروائی میں شریک نہیں تھی۔( یہ جو پیچھے میں نے حوالے اقتباسات وغیرہ کا ذکر کیا ہے ان کے اصل حوالے لکھے ہوئے میرے پاس سب موجود ہیں، یہ میں اس لئے پڑھ کر نہیں سنا رہا تھا کہ وقت بچے ،لیکن جب خطبہ چھپے گا تو اس میں انشاء اللہ تعالیٰ یہ ساتھ دیدوں گا حوالے یا کیسٹ کے ساتھ بھی یہ بعد میں کسی اور کی طرف سے بیان کئے جاسکتے ہیں ) تو وہ جو انگلستان میں 1917ء سے لے کر 18 ، 19 ،20 تک کی جدوجہد ہے ، اس جد و جہد کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ مسلمانوں نے بھی بہت بڑی غفلت کا ثبوت دیا ہے جبکہ یہود ہر طرف سازشوں کا جال پھیلا رہے تھے۔صاحب اثر لوگوں پر اثر انداز ہورہے تھے، مسلمان اس مسئلے سے غافل تھے۔چنانچہ Lord Curzon جو Balfour کے بعد وزیر خارجہ بنے اور جنہوں نے مسلمانوں کی حمایت کی ہے بڑے زور کے ساتھ انہوں نے بہت ہی حیرت انگیز باتوں کا انکشاف کیا ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ یک طرفہ یہود لگے ہوئے ہیں، سازشوں کا جال پھیلا رہے ہیں، اور پوری کوششیں کر رہے ہیں اور عرب یوں لگتا ہے جیسے چابی کے سوراخ سے Key Hole سے باہر سے صرف دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور ان کو اجازت ہی نہیں دی جارہی کہ وہ داخل ہوں یا ان کو خود ہوش نہیں ہے۔بہر حال یہ کہنا کہ ساری قوم اس منصوبے میں شامل تھی یہ درست نہیں ہے، Lord Curzon نے بڑی شدت سے مخالفت کی ، وہ اس نکتے کی،اسرائیل کے قیام کی غرض وغایت کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے۔وہ لکھتے ہیں کہ :۔