خلیج کا بحران — Page 232
۲۳۲ ۸ فروری ۱۹۹۱ء یعنی Murder۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتا ہے Me Thought میں سمجھتا ہوں۔میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے لگتا ہے۔مجھے گمان گزرتا ہے۔I heard a voice Cry sleep no more کہ میں نے ایک شیخ سنی ہے جو یہ کہہ رہی تھی کہ اب کبھی نہیں سونا ، اب کبھی نہیں سونا۔Mecbetth does murther sleep دیکھو میک بیتھ نے نیند کو قتل کر دیا ہے چونکہ بادشاہ سویا ہوا تھا اس لئے اس حالت میں اس کو مارنا اس کے نفسیاتی دباؤ کے تابع اس سے بہتر رنگ میں ظاہر نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ سوچ رہا ہے کہ میں نے نیند کو ماردیا ہے۔جب نیند کو مار دیا ہے تو پھر مجھے نیند کہاں سے آئے گی۔تو ایک لفظ کی تبدیلی سے امریکہ اور صدر بش کے خواب پران سطور کا اطلاق ہوسکتا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ۔"Me thought I heard a voice cry peace no more U۔S Does murther peace" مجھے محسوس ہورہا ہے کہ ایک چلانے والے کی آواز یہ سنائی دے رہی ہے کہ اب اس خطے میں یاد نیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکے گا اگر یہ خواب پوری ہو گئی اس شرط کے ساتھ میں کہہ رہا ہوں تو میں یہ آواز سن رہا ہوں کہ اس خطے میں اب کبھی امن قائم نہیں ہو سکے گا یونائیٹڈ سٹیٹس نے امن کو ہمیشہ کیلئے قتل کر دیا ہے۔اس کے نتیجے میں کیا ہو سکتا ہے ہم کیا کر سکتے ہیں ان قوموں کو کیا مشورے دیئے جاسکتے ہیں کہ یہ ہلاکت کے قدم جو آگے بڑھا چکے ہیں ان کو کس طرح واپس کر لیں اس سلسلے میں انشاء اللہ میں آئندہ خطبے میں آپ سے مخاطب ہوں گا۔میں چاہتا ہوں کہ جلد سے جلد اس مضمون کو ختم کروں اور واپس اپنے اصلی اور حقیقی اور دائمی مضمون کی طرف آجاؤں یعنی احمد یوں کو عبادتیں کس طرح کرنی چاہئیں اور عبادتوں میں کس طرح لذت پیدا کرنی چاہئے۔