خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 219 of 376

خلیج کا بحران — Page 219

۲۱۹ ۸ فروری ۱۹۹۱ء رخصت کا بگل بجایا اور اس ملک کو اس طرح چھوڑ کر چلے گئے۔یہ بھی ایک بہت ہی ظالمانہ کارروائی تھی۔جس کا سب سے زیادہ نقصان فلسطینیوں کو پہنچا۔بہر حال مفادات کی یہ دو جنگیں ہیں جو مفادات کے نام پر لڑی گئیں اور آج کی تیسری جنگ بھی مفادات کی جنگ ہے جس میں یہود بھی ایک کردار کے طور پر کھیل میں شامل ہیں اگر چہ یہود کو پس منظر میں رکھا گیا ہے اور امریکہ نے یہود کی نمائندگی لے لی ہے۔یہودی توسیع پسندی کی جنگیں دوسری قسم کی جنگیں مشرق وسطی میں یہود کی توسیع پسندی کی جنگیں کہلا سکتی ہیں۔1948ء1949ء میں جو تو سیع پسندی کی لڑائیاں ہوئیں اس میں سارا الزام فلسطینیوں پر عائد کیا جاتا ہے اور اردگرد کی مسلمان حکومتوں پر عائد کیا جاتا ہے کہ وہ حملے کرتی تھیں اس لئے یہود کو جوابی کارروائی کرنی پڑتی تھی اور مجبوراً اپنا علاقہ وسیع تر کرنا پڑا لیکن اس کے بعد 1956ء میں جو یہود نے جارحانہ جنگ لڑی ہے یا اسرائیل نے جارحانہ جنگ لڑی ہے اس کا کسی قسم کا کوئی جواز نہیں۔وہ خالصۂ توسیع پسندی کی جنگ تھی اور انتہائی ہولناک جنگ تھی چند دن کے اندراندر انہوں نے مصر اور شام اور اردن کی طاقتوں کو کچل کے رکھ دیا اور اپنے علاقے کو اتنا وسیع کرلیا کہ جو علاقہ ان کو مینڈیٹ نے عطا کیا تھا اس سے کئی گناہ زیادہ بڑھ چکا تھا۔خلاصہ میں آپ کے سامنے یہودی علاقے کی توسیع کا معاملہ رکھتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس حد تک یہود نے اپنے علاقے میں توسیع کی ہے اور کرتے چلے جارہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔1937ء کی غالبا بات ہے کہ انگریزوں نے 18 ء کے بالفور ریزولیوشن کو پیش نظر رکھتے ہوئے اعداد وشمار میں پہلی دفعہ یہ بات کی کہ یہود کی حکومت کو کتنا علاقہ دینا چاہئے۔چنانچہ اس فیصلے کی رو سے پانچ ہزار کلومیٹر کا علاقہ یہود کو دیا جانا چاہئے تھا 1947ء کے آخر میں جو فیصلہ یونائیٹڈ نیشنز نے کیا اس میں 5000 کی بجائے ہیں ہزار کلومیٹر کا رقبہ ان کو دیا گیا تھا۔کچھ رقبہ دوسال کے عرصہ میں