خلیج کا بحران — Page 197
۱۹۷ یکم رفروری ۱۹۹۱ء درجے کے جھوٹوں کی ہے جنہوں نے منصوبہ بنایا اور اب انکار کر رہے ہیں اور یا پھر ایک بہت بزرگ اور بچے کی کتاب ہے جس کو خدا نے بتایا تھا کہ آئندہ یہ واقعات ہوں گے۔یہودی منصوبہ ضرور نا کام ہوگا آج ہم جس دور میں داخل ہوئے ہیں یہ اس کی تکمیل کے آخری مراحل کا دور ہے۔جب روس اور امریکہ کے درمیان مفاہمتیں شروع ہوئیں اور برلن کی دیوار گرنی شروع ہوئی تو مجھے اس وقت یہ منصو بہ یاد آیا۔اگر چہ میرے پاس موجود نہیں تھا کہ میں اپنی Memory، اپنی یادداشت کو تازہ کر سکتا مگر اتنا مجھے یاد ہے کہ اس کے آخر پر یہی لکھا ہوا تھا کہ بالآخر ہم پھر ساری دنیا کو پہلے تقسیم کریں گے اور پھر اکٹھا کر دیں گے اور اس وقت یہ ہوگا جب ہمارا United Nations پر پوری طرح قبضہ ہو چکا ہوگا۔تو اس وقت سے میرا دل اس بات پر دھڑک رہا تھا کہ اب وہ خطرناک دن آنے کا زمانہ معلوم ہوتا ہے آ گیا ہے لیکن اس خوف کے باوجود جواتنی بڑی بڑی علامتوں کے ظاہر ہونے کے بعد ایک طبعی امر ہے مجھے ایک یہ بھی کامل یقین ہے کہ بالآخر یہ منصوبہ ضرور ناکام ہوگا اور میرا یہ اعلان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام کی بناء پر ہے 1901ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا کہ : فری میسن مسلط نہیں کئے جائیں گے کہ اس کو ہلاک کریں ( تذکرہ صفحہ: ۳۳۶) اور 1905ء میں انگریزی میں یہ منصوبہ دنیا کے سامنے آیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ فری میسن مسلط کئے جائیں گے۔پس اس زمانے میں جبکہ فری میسنز کا کسی کو تصور بھی نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہونا یعنی ہندوستانی میں تو فری میسنری“ کا بہت کم لوگوں کو پتا تھا اور پھر قادیان جیسے گاؤں میں اچانک یہ الہام ہو جانا حیرت انگیز بات ہے پس مجھے کامل یقین ہے کہ بالآخر یہ منصوبہ ضرور ناکام ہوگا مگر نا کام ہونے سے پہلے دنیا میں نہایت ہی خطرناک زہر پھیل چکا ہوگا۔بہت سے آتش فشاں پھٹ چکے ہوں گے اس کے نتیجے میں بہت سے زلازل واقعہ ہو چکے ہوں