خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 376

خلیج کا بحران — Page 196

١٩٦ یکم فروری ۱۹۹۱ء ہوگی تو یہ United Nations پر قبضہ کرنے کا اور اس کے ذریعے پھر آگے دنیا پر حکومت کرنے کا جو منصوبہ تھا اس میں بہت سالوں کا لگنا ایک طبعی امر تھا لیکن جس مرحلے کا اس میں ذکر ہے کہ ان ان مراحل کو طے کر کے ہم بالآخر اس منصوبے کو پائیہ تکمیل تک پہنچائیں گے وہ تمام مراحل اسی طرح وقتاً فوقنا طے ہوتے رہے۔چنانچہ جب یہود نے اس منصوبے سے قطع تعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ہماری طرف منسوب کیا گیا ہے ہمارا منصوبہ نہیں ہے تو اس پر دنیا کے علماء اور سیاستدانوں اور دانشوروں نے بڑی بڑی بحثیں اٹھا ئیں۔کئی عدالتوں میں اس پر مقدمہ بازیاں ہوئیں۔انگلستان کے ایک پروٹسٹنٹ نے اس پر بہت تحقیق کی ہے اور اس نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام ہے Water Flowing Eastwards اس کتاب میں اس کے سارے پہلوؤں پر بحث ہے۔مجھے آج سے تقریباً 20 سال پہلے اس کو پڑھنے کا موقع ملا تھا۔اس کے بعد کوئی دوست مانگ کر لے گئے اور پھر وہ ہاتھوں ہاتھ بکھر کے پتا نہیں کہاں چلی گئی۔انگلستان سے میں نے کوشش کی ہے لیکن وہ دستیاب نہیں ہوتی کیونکہ اس کتاب میں یہ بھی ذکر ہے کہ اس کتاب کو یہود فورا مارکیٹ سے غائب کر دیتے ہیں۔یہ درست ہے یا غلط کہ یہود کرتے ہیں یا کوئی اور کرتا ہے مگر ہوضرور غائب جاتی ہے یہ تو ہمارا تجربہ ہے۔پس معین طور پر الفاظ تو میں بیان نہیں کر سکتا لیکن جو بات میں بیان کرتا ہوں۔بنیادی طور پر مضمون کے لحاظ سے درست ہے۔چنانچہ اس میں اس نے لکھا ہے جب انگلستان کے پرائم منسٹر، غالبا ڈ زرائیلی نام تھا، ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک یہ مسودہ جو یہود کی طرف منسوب کیا جاتا ہے واقعہ بڑے یہودی آدمیوں کی تحریر ہے اور ان کا منصوبہ ہے یا ان کے خلاف محض ایک سازش ہے اور ان کو بدنام کرنے کی کوشش ہے تو اس کا جواب ڈزرائیلی نے یہ دیا کہ میرے نزدیک صرف دوصورتیں ممکن ہیں یا تو یہ منصو بہ واقعہ انہی لوگوں کا ہے جن کی طرف منسوب ہو رہا ہے کیونکہ اس کے بعد جتنے واقعات رونما ہوئے ہیں وہ بعینہ اس منصوبے کے مطابق ہوئے ہیں اس لئے از خود کس طرح وہ واقعات رونما ہونے لگے اور اسی ترتیب کے ساتھ ، اسی تفصیل کے ساتھ اور یا پھر یہ کسی نبی کی کتاب ہوگی جس نے خدا سے علم پا کر اتنی زبر دست پیشگوئی کی ہوگی۔تو اس نے کہا میرے نزدیک تو دوہی صورتیں ہیں یا تو پر لے