خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 376

خلیج کا بحران — Page 192

۱۹۲ یکم فروری ۱۹۹۱ء مقصد کیا ہے۔کیوں ہو رہی ہے؟ اس کی نوعیت کیا ہے؟ جب تک ہم اس کو اچھی طرح سمجھ نہ لیں اس وقت تک اس بارے میں ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ عالم اسلام کا صحیح موقف کیا ہونا چاہئے یا دنیا کا مؤقف کیا ہونا چاہئے۔United Nations کو اس بارہ میں کیا اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں۔مرض کا جب تک تجزیہ ہی نہ ہو تشخیص ہی صحیح نہ ہو اس وقت تک صحیح علاج تجویز ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے میں باقی خطبے میں مختصراً اس جنگ کی وجوہات کا اور اصل محرکات کا اور مقاصد کا تجزیہ کرنے کی کوشش کروں گا تا کہ اس کی روشنی میں پھر آئندہ انشاء اللہ ایسی تجاویز پیش کروں گا جوUnited Nations کیلئے بھی ہوں گی اور دنیا کی دوسری قوموں کے لئے بھی اور عالم اسلام کے لئے بھی کہ احمد یہ نقطہ نگاہ سے بھی ان مسائل کا کیا حل ہے اور آئندہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے اگر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے تو کس پہلو سے، کس طریق پر غور ہونا چاہئے۔اس وقت تو ہم مغرب سے یہی آواز سن رہے ہیں اور صدر بش اس آواز کو سب سے زیادہ زور سے اور شور کے ساتھ دنیا میں پیش کر رہے ہیں کہ یہ جنگ مذہبی جنگ نہیں ہے۔یہ جنگ کسی قسم کے مفادات سے تعلق نہیں رکھتی یہ تیل کی جنگ نہیں ہے۔یہ ہمارے مفادات کی جنگ نہیں، یہ اسلام کی جنگ نہیں ہے یہ یہودیت کی جنگ نہیں ہے یہ عیسائیت کی جنگ نہیں ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں یہ حق اور انصاف کی جنگ ہے، یہ سچ اور جھوٹ کی جنگ ہے، یہ نیکی اور بدی کی جنگ ہے، یہ تمام دنیا کی جنگ ہے، ایک ظالم اور سفاک شخص صدام کے خلاف۔یہ وہ امریکی نظریہ ہے جس کو اس کثرت کے ساتھ ریڈیو، ٹیلی ویژن ، اخبارات میں مشتہر کیا جارہا ہے کہ اکثر مغربی دنیا اس کو تسلیم کر بیٹھی ہے۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعی یہی جنگ ہے لیکن بہت سے منصف مزاج اور گہری نظر رکھنے والے مبصرین ہیں جو انکار کر رہے ہیں اور مغرب ہی کے مبصرین کی میں بات کر رہا ہوں۔ان میں بڑے بڑے ماہر اور تجربہ کار سیاستدان بھی ہیں اور دانشور صحافی ہر قسم کے طبقے سے کچھ نہ کچھ آواز میں یہ بلند ہورہی ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے۔یہ سب پروپیگنڈہ ہے اور ہمیں ہمارے ہی راہنما دھوکے دے رہے ہیں اور کھلے کھلے دھوکے دے رہے ہیں۔یہ جنگ کچھ اور ہے۔Adward Heithجو