خلیج کا بحران — Page 191
۱۹۱ یکم فروری ۱۹۹۱ء جاسکتا یہ اس کی خوش نصیبی تھی کہ اتنی بڑی سعادت ، اتنی بڑی امانت اس کے سپرد ہوئی اور دوسری طرف اسلامی علوم کا محافظ اور نگہدار مصر سمجھا جاتا تھا کیونکہ مصر کی جامعہ ازھر نے اسلامی علوم کی جو خدمت کی ہے اس کی کوئی مثال کسی اور اسلامی ملک میں دکھائی نہیں دیتی اور اسلام کے آخری دور میں علمی خدمت کے لحاظ سے جامعہ ازھر مصر کو جو پوزیشن حاصل ہے اس کا کوئی اور دنیا میں مقابلہ نہیں کر سکتا پس ان دونوں سے اس پہلو سے کوئی دور کی بھی توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ یہ ملت اسلامیہ سے غداری کریں گے۔چنانچہ ان کا حال دیکھ کر مجھے وہ ایک شعر یاد آ جاتا ہے جو بچپن میں سنا ہوا تھا اور اس زمانے میں زیادہ اچھا لگا کرتا تھا مگر بعد میں درمیانہ سا لگنے لگا وہ یہ تھا کہ: آگ دی صیاد نے جب آشیانے کو میرے جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے کہ جب ظالم شکاری نے میرے گھونسلے کو جلایا تو جن پتوں پر میرا ٹھکا نہ تھا، میرا سر ہانہ تھا، میرا تکیہ تھا وہی پتے ہل ہل کر اس میرے گھونسلے کی آگ کو ہوا دینے لگے۔تو علمی لحاظ سے اور نقدس کے لحاظ سے جن دو ملکوں پر عالم اسلام کا تکیہ تھا جب دشمن نے عالم اسلام کے آشیانے کو آگ دی ہے تو انہوں نے ہی اس آگ کو ہوادی ہے۔پس یہ ایسا جرم نہیں ہے جو کبھی بھی تاریخ میں معاف کیا جا سکے گا۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر کیا فیصلے کرتی ہے۔آج کرتی ہے یا کل کرتی ہے،اس دنیا میں کچھ دکھاتی ہے یا ان کی سزا جزا کا معاملہ آخرت تک ملتوی کر دیتی ہے یہ تو اللہ تعالی مالک ہے وہی بہتر فیصلے کر سکتا ہے لیکن جہاں تک دنیا کی سمجھ بوجھ کا تعلق ہے اس کے بداثرات کچھ تو ظاہر ہور ہے ہیں کچھ ایسے ہیں جو مدتوں ہوتے رہیں گے اور صرف اس خطہ ارض میں محدود نہیں رہیں گے بلکہ بہت وسیع ہوں گے اور بہت پھیل جائیں گے۔جنگ کے متعلق مغربی مبصرین کا محاکمہ دوسرا پہلو اس جنگ کا یہ ہے کہ جس کو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ اس جنگ کا