خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 190 of 376

خلیج کا بحران — Page 190

۱۹۰ یکم فروری ۱۹۹۱ء تول کرنا بہت ہی مشکل ہوگا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایران کی خدمت کسی طرح دوسری سب خدمتوں سے پیچھے رہ گئی ہے۔الحمد للہ کہ ایران نے اپنی تو قعات کو پورا کیا اور باوجود اس کے کہ صدر صدام کی حکومت سے ایرانی حکومت کا شدید اختلاف تھا۔آٹھ سال تک نہایت خوفناک خونی جنگ میں یہ لوگ مبتلا رہے ہیں اور بہت ہی گہرے شکوے اور صدمے تھے۔اگر امیران ،عراق کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا تو دنیا سمجھ سکتی تھی اور مورخ اس کو معاف بھی کر سکتا تھا کہ اتنی خوفناک جنگ کے بعد اگر ایران نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے تو کوئی حرج نہیں ایسا ہو جایا کرتا ہے۔آخر انسانی جذبات ہیں جو بعض باتوں سے مشتعل ہو کر پھر قابو میں نہیں آتے۔اس وقت انسان گہری سوچوں میں نہیں پڑسکتا کہ اسلام کے تقاضے کیا ہیں ، ملت کے تقاضے کیا ہیں۔جذبات میں بہہ جاتا ہے تو یہ باتیں سوچ کر ایک مؤرخ کہہ سکتا ہے کہ اس پہلو سے یہ قابل معافی ہے مگر ایران نے اگر چہ ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ تو نہیں کیا لیکن اس ابتلاء میں پوری طرح نیوٹرل (Neutral) رہتے ہوئے عراق کو عراق کی غلطی یاد کرائی اور مغربی طاقتوں کو ان کی غلطی یاد کروائی گویا کہ انصاف پر قائم رہا۔اس پہلو سے ایران کا نام انشاء اللہ اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔سعودی عرب اور مصر کا نا قابل معافی جرم یہ تو مختصر تبصرہ ہے سیاسی طور پر اسلام سے وفاداری یا عدم وفاداری کا جہاں تک تعلق ہے۔میں جب اسلام سے وفاداری یا عدم وفا داری کہہ رہا ہوں تو سیاسی معنوں میں کہہ رہا ہوں یعنی ملت اسلامیہ سے وفاداری یا عدم وفاداری کی بات ہو رہی ہے لیکن اس ضمن میں ایک یہ بات اور بھی بتانی چاہتا ہوں کہ ملت اسلامیہ میں دو ممالک ایسے تھے دو سلطنتیں ایسی تھیں جو مذہب کے لحاظ سے بھی غیر معمولی مقام رکھتی تھیں۔اسلام کے مقدس مقامات کے محافظ کے طور پر اور اس کے مجاور اور نگران پر سعودی عرب کو دنیائے اسلام میں ایک عظیم حیثیت حاصل ہے جس سے کوئی انکار نہیں کیا کے طور پر