خلیج کا بحران — Page 171
121 ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء ہی کوئی بعید کی بات ہو کہ کبھی دونوں کا برابر قصور ہو کہ دونوں برابر سچے ہوں۔بالعموم ایک فریق مظلوم ہوتا ہے اور ایک ظالم ہوتا ہے۔پس ہر مظلوم کی لڑائی کو جہاد نہیں کہا جاتا۔اُس مظلوم کی لڑائی کو جہاد کہا جاتا ہے جسے خدا کا نام لینے سے روکا جا رہا ہو جس پر مذہبی تشدد کیا جارہا ہو۔قرآن کریم فرماتا ہے۔انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اِلَّا اَنْ تَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ (الج: ۴۱) سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے۔پس اگر کوئی لڑائی محض اس وجہ سے کسی پر ٹھونسی جارہی ہو اور فریق مخالف پہل کر چکا ہو اور تلوار اس نے اٹھائی ہو نہ کہ مسلمانوں نے اور مسلمانوں کا جرم اس کے سوا کچھ نہ ہو کہ وہ اللہ کو اپنا رب قرار دیتے ہوں اور غیر اللہ کو رب تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوں تو پھر اس لڑائی کا نام جہاد ہے۔پس محض حق کی لڑائی کا نام جہاد نہیں بلکہ ان معنوں میں جن کی لڑائی کا نام جہاد ہے۔پس یہ صورتحال تو عراق اور باقی قوموں کی لڑائی پر چسپاں نہیں ہو رہی۔کویت نے کسی وجہ سے عراق کو ناراض کیا اور عراق نے اس ناراضگی کے نتیجے میں اور اس یقین کے نتیجے میں کہ کبھی یہ چھوٹا سا ملک ہمارے وطن کا حصہ تھا اور انگریزوں نے اسے کاٹ کر ہم سے جدا کیا تھا اس لئے بنیادی طور پر ہمارا حق بنتا ہے اور کچھ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اس یقین پر کہ اس چھوٹے سے ملک کو یت کی ہمارے سامنے حیثیت کیا ہے جبکہ ہم اتنی مدت تک آٹھ سال تک ایران سے لڑ چکے ہیں اور ایران کو بھی ایسے ایسے چیلنج دے چکے ہیں جن کے نتیجے میں بعض دفعہ ایران کو یہ خطرات محسوس ہورہے تھے کہ شاید ہمارے وطن کا اس دنیا سے صفایا ہو جائے۔بہت دور تک گہرے ایران کے اندر عراق کی فوجیں داخل ہو چکی تھیں۔بعد میں ان کو دھکیل کر واپس کیا گیا۔پھر جس طرح تکڑی کے تول ہوا کرتے ہیں بعض دفعہ ایک طرف سے ڈنڈی ماری جاتی تھی ، بعض دفعہ ویسے ہی ایک فریق کا وزن بڑھ جاتا تھا تو یہ اونچ نیچ ہوتا رہا مگر ایران کے مقابل پر کویت کی کیا حیثیت تھی۔پس ہو سکتا ہے یہ خیال بھی عراق کے لئے شہہ دلانے کا موجب بنا ہو کہ یہ کویت ، چھوٹا سا ملک اسے تو ہم آنا فانا تباہ کر دیں گے۔اور اس وجہ سے انہوں نے قبضہ کر لیا ہو، بہر حال قبضے کی کیا وجوہات تھیں ؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟ در حقیقت حق کس طرف ہے؟ اور اگر