خلیج کا بحران — Page 141
۱۴۱ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء سے بڑھ کر طاقت بن کر ابھرے گا اور اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے متعلق کوئی عرب طاقت سوچ بھی نہیں سکے گی کم سے کم ایک لمبے عرصے تک اور اس کے نتیجے میں تمام دنیا میں شدید مالی بحران پیدا ہوں گے اور چونکہ آج کل دنیا کے ترقی یافتہ ممالک خود مالی بحران کا شکار ہیں اس لئے تیسری دنیا کے مالی بحران کے نتیجے میں ایسے سیاسی اثرات پیدا ہوں گے کہ اور جنگیں چھڑیں گی اور دنیا کا امن دن بدن برباد ہوتا چلا جائے گا۔مختصر یہ کچھ ہے جو آئندہ پیش آنے والا ہے۔اگر آج مسلمان ممالک نے اصلاح احوال نہ کی۔مغربی مفکرین بار بار یہ بات دہراتے چلے جارہے ہیں کہ اب Ball عراق کی کورٹ میں ہے اور صد رصدام کے ہاتھ میں ہے، اس بال کو کس طرف ہٹ لگائے جنگ کی طرف یا امن کی طرف حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے صدر صدام کے ہاتھ آپ لوگوں نے اس طرح باندھ رکھے ہیں اور اس معاملے کو اس طرح اٹھایا ہے کہ اس کے لئے اب حقیقت میں کوئی دوراہے پر کھڑے ہونے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک ہی راہ پر کھڑا ہے جس میں آگے بڑھے تو تب بھی ہلاکت ہے پیچھے ہٹے تو تب بھی ہلاکت ہے آگے بڑھے تو ہلاکت اس رنگ میں ہوگی کہ اچانک تیز ہلاکت لیکن ساتھ دشمن بھی بہت حد تک شدید نقصان اٹھائے گا۔پیچھے ہٹے تو دم گھونٹ کر مارا جائے گا۔اس لئے صدرصدام حسین کو تو آپ نے دوراہے پر لا کھڑا نہیں کیا بلکہ دوسری راہ اس سے منقطع کر دی ہے۔اگر با عزت سمجھنے کی کوئی راہ اس کے سامنے کھولی ہوتی تو پھر وہ یہ فیصلہ کر سکتا کہ جنگ کی راہ اختیار کروں یا امن کی راہ اختیار کروں۔اب تو فیصلہ یہی ہے کہ ایک دم مرمٹنے کی راہ اختیار کروں اور عزت کے ساتھ مرجانے کی راہ اختیار کروں یا ذلت کے ساتھ دم گھونٹ کر مارا جاؤں۔موجودہ حالات میں مسلمان ممالک کا فرض ہاں Ball جو ہے دراصل صدر صدام حسین کی کورٹ میں نہیں ہے۔وہ مسلمان ممالک کی کورٹ میں ہے۔اگر مسلمان ممالک اس صورت حال کو صحیح سمجھ سکیں اور آج نہ سہی کل کے مورخ کے قلم