خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 376

خلیج کا بحران — Page 134

۱۳۴ ۱۱/ جنوری ۱۹۹۱ء شمشیر قبضہ کیا تھا اور ا۱۸۰ء میں سب سے پہلے یہ فوجی مہم شروع کی گئی اور اس خاندان کے جوسر براہ تھے ان کا نام عبدالعزیز تھا۔لیکن عبد العزیز کے بیٹے سعود تھے جو دراصل بڑی بڑی فوجی کارروائیوں میں بہت شہرت اختیار کر گئے اور بڑی مہارت رکھتے تھے۔چنانچہ ان کی سر براہی میں ان حملوں کا آغاز ہوا۔سب سے پہلے انہوں نے عراق میں پیش قدمی کی اور کربلائے معلی پر قبضہ کیا وہاں کے تمام مقدس مزاروں کو ملیا میٹ کر دیا یہ موقف پیش کرتے ہوئے کہ یہ سب شرک کی باتیں ہیں اور ان میں کوئی تقدس نہیں ہے، اینٹ پتھر کی چیزیں ہیں۔ان کو مٹا دینا چاہئے اور پھر کر بلائے معلی میں بسنے والے مسلمانوں کا جواکثر شیعہ تھے قتل عام کیا اور پھر بصرہ کی طرف پیش قدمی کی اور کربلائے معلی سے لے کر بصرہ تک کے تقریباً تمام علاقے کو تاخت و تاراج کر کے وہاں شہروں کو آگئیں لگادی گئیں قتل عام کئے گئے ، لوٹ مار کی گئی۔ہر قسم کے مظالم جو آج عراق کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان سے بہت بڑھ کر ، بہت زیادہ وسیع علاقے میں اسی خاندان نے عراق کے علاقے میں کئے ،لیکن وہاں سے طاقت پکڑنے کے بعد پھر ارض مقدس کی طرف رخ کیا اور طائف پر قبضہ کر لیا ارض حجاز میں اور ۱۸۰۳ء میں یہ مکہ اور مدینہ میں داخل ہو گئے اور مکہ اور مدینہ میں داخل ہونے کے بعد وہاں قتل عام کیا گیا اور بہت سے مزار گرا دیئے گئے اور بہت سی مقدس نشانیاں اور مقامات مثلاً حضرت محمد کا مولد، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مولد وغیرہ اس قسم کے بہت سے مقدس حجرے اور مقامات تھے جن کو یا تو منہدم کر دیا گیا یا ان کی شدید گستاخی کی گئی اور یہ ظاہر کیا گیا کہ اسلام میں ان ظاہری چیزوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے یہ سب شرک ہے اور جو خون خرابہ ہوا ہے اس کا کوئی معین ریکارڈ نہیں لیکن تاریخیں یکھتی ہیں کہ بالکل نہتے اور بے ضرر اور مقابلے میں نہ آنے والے شہریوں کا بھی قتل عام بڑی بے دردی سے کیا گیا ہے۔۱۸۱۳ء میں محمدعلی پاشا حاکم مصر نے پھر اس علاقے کو سعودیوں سے خالی کروالیا اور پھر بیسویں صدی کے آغاز میں دوبارہ سعودیوں نے ارض حجاز پر یلغار کی اور اس دفعہ انگریزوں کی پوری طاقت ان کے ساتھ تھی۔انگریزی جرنیل با قاعدہ ان کی پیش قدمی کی سکیمیں بناتے تھے اور انگریز ہی