خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 376

خلیج کا بحران — Page 133

۱۳۳ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء کر کے خود اپنا منہ بھی کالا کرتے ہیں اور اسلام کے اوپر بھی داغ ڈالتے ہیں۔تو ایک میرا پیغام تو عالم اسلام کو یہ ہے کہ ہوش کرو عقل سے کام لو جن قوموں سے لڑنا ہے ان سے لڑنے کے انداز ہی سیکھ لو وہ زبان ہی اختیار کر لو جو زبان تمہارے متعلق یا دوسری قوموں کے خلاف وہ استعمال کرتے ہیں۔بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔مسلمان ملکوں کا عجیب و غریب موقف اب میں ایک تیسرے حصے کی طرف آتا ہوں۔عراقی موقف اور مغربی موقف میں نے بیان کیا دوسرے مسلمان ممالک نے بھی ایک موقف اختیار کیا ہے اوراکثریت نے سعودی عرب کے اس موقف کا ساتھ دیا ہے کہ اس موقعہ پر ضروری ہے کہ سب مسلمان ممالک مل کر یا زیادہ سے زیادہ تعداد میں مسلمان ممالک مل کر عراق کو مٹانے کا تہیہ کریں اور اس کوشش میں اکٹھے ہو جائیں لیکن صرف یہیں تک بات نہیں رہتی۔اس سے آگے بڑھ کر یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ ارض حجاز مقدس زمین ہے اور مکہ اور مدینہ کی مقدس بستیاں یہاں موجود ہیں۔آج صرف کویت کا مسئلہ نہیں ہے آج مسئلہ ان بستیوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔ان بستیوں کے تقدس کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔جن میں کبھی حضرت اقدس محمد مصطفے ہے سانس لیا کرتے تھے۔وہاں آپ کے قدم پڑا کرتے تھے۔پس اسے بہت ہی تقدس کا رنگ دے کر عام مسلمانوں کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔چنانچہ پاکستان کی طرف سے بار بار اسی قسم کے اعلان ہوئے ہیں کہ اب ہم نے ارض مقدس کی حفاظت کے لئے دو ہزار سپاہی بھجوادیئے ، تین ہزار سپاہی بھجوا دیئے ، پانچ ہزار سپاہی بھجوادیئے اور ارض مقدس کے نام پر ہم یہ عظیم قربانی کر رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ارض کی اپنی تاریخ کیا ہے؟ اور وہ لوگ جو ارض مقدس کا نام لے کر اور محمد مصطفی ﷺ کے تقدس کے حوالے دے کر مسلمانوں کی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کا اپنا کیا کردار رہا ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ سعودیوں نے یعنی اس خاندان نے سب سے پہلے خود ارض حجاز پر بزور