خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 376

خلیج کا بحران — Page 118

۱۱۸ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء عجیب معجزہ رونما ہوا کہ تم جو ایک دوسرے کے دشمن تھے، ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ اور تم ایک ایسے گڑھے کے کنارے پر کھڑے ہوئے تھے جو آگ سے بھرا ہوا تھا فَانْقَذَكُمْ مِنْهَا پس یہ اللہ تھا جس نے تمہیں اس گڑھے سے بچالیا۔اس کنارے کی حالت سے ہٹا کر تمہیں دور لے گیا۔گذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تم پر کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔تا کہ تم ہدایت پاؤ۔تفرقہ سے جنگ کی آگ بھڑکتی ہے اب اس دوسرے حصے میں یہ مضمون بیان فرمایا کہ تفرقہ لازماً آگ تک پہنچاتا ہے۔آگ سے مراد لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ جہنم کی آگ مراد ہے مگر قرآن کریم کے محاورے سے ثابت ہے کہ آگ سے مراد خوفناک لڑائیاں بھی ہیں اور صرف مرنے کے بعد آگ مراد نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں بھی جو مختلف جگہوں پر ہم ہر وقت قوموں کو آپس میں لڑتا دیکھتے ہیں یا ہر وقت نہیں تو کبھی کبھی لڑتا دیکھتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ تفرقہ ہے اور جب تفرقہ شدت اختیار کر جائے تو ایسی قومیں لازماً پھر لڑائی کی آگ میں جھونکی جاتی ہیں ، حرب کی آگ میں جھونکی جاتی ہیں۔یہ ایک مزید کسوٹی اپنی حالت کو پہچاننے کے لئے پیش کر دی۔فرمایا کہ اگر تم واقعی مسلمان ہو۔اگر تم واقعی اللہ کی اطاعت میں داخل ہو اور حبل اللہ کو تھامے ہوئے ہو تو یہ ناممکن ہے کہ تم آپس میں لڑ پڑو۔یہ ناممکن ہے کہ تم آگ کی بھٹی میں جھونکے جاؤ یعنی لڑائی کی بھٹی میں جھونکے جاؤ۔اللہ نے تمہیں اس آگ سے دور کر دیا یعنی حبل الله کے نتیجے میں تم اس کنارے سے دور لے جائے گئے اور جب تک تم اس کنارے پر کھڑے تھے تیز ہوا کا کوئی جھونکا بھی تمہیں اس میں دھکیل سکتا تھا، کوئی شدید دشمن تمہیں دھکا دے کر اس میں دھکیل سکتا تھا، کوئی شدید دشمن تمہیں دھکا دے کر اس میں گرا سکتا تھا لیکن جو کناروں سے دور ہٹ جائیں گے ان کو ایک جھونکا یا ایک، دو چار دھکے تو اس آگ کے گڑھے میں نہیں گرا