خلیج کا بحران — Page 112
۱۱۲ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء میں ٹھونگا مارنا کہتے ہیں (ٹھونگا ہی غالباً اسکا اردو میں لفظ ہے ) بہر حال انگلی سے الٹی کر کے اس نے یوں سر پر ایک ٹھونکا لگایا، سارا بازار ہنس پڑا۔غصے میں آکر اس کو اتنا مارا کہ نیم بے ہوش کر دیا۔جب مار بیٹھا تو اس نے کہا کہ پہلوان جی! آپ جتنا مرضی مارلیں مجھے اس ٹھونکے کا جو مزا آ گیا ہے۔وہ آپ کو نہیں آ سکتا۔اب یہ ہے تو لطیفہ مگر اس میں فطرت کا ایک گہرا راز بیان ہوا ہے۔ایک شخص کو بظاہر ایک ٹھونکا لگتا ہے لیکن وہ ایسی ذلت محسوس کرتا ہے اس کے نتیجے میں اس قدرخفیف ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دنیا کی نظر میں میں بالکل ذلیل اور رسوا ہو گیا ہوں۔تو جو دل کا رد عمل ہے اس کے نتیجے میں پھر وہ بیرونی رد عمل دکھاتا ہے جو ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا رد عمل ہوتا ہے اور اعتداء میں داخل ہو جاتا ہے سوائے ایسے آدمی کے جو تقویٰ کا حق ادا کرنے والا ہو۔ایک خوشخبری آپ سنتے ہیں اس پر بھی جو رد عمل ہوتا ہے وہ بھی ویسی ہی صورت اختیار کرتا ہے۔بعض لوگ خوشخبری سن کر اچھلنے لگ جاتے ہیں بیہودہ ، لغوحرکتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔شیخیاں بگھارنے لگتے ہیں بغلیں بجاتے ہیں۔عجیب عجیب پاگلوں والی حرکتیں کرتے ہیں۔خوشی کی کوئی خبر سنیں یا خوشی کا کوئی موقعہ دیکھیں کسی پر فتح حاصل کریں یا اچانک کوئی بڑا منافع حاصل ہو، ہر ایسی حالت میں انسان اپنے رد عمل میں حد سے تجاوز کرنے والا ہوتا ہے اور وہ اس کی اسلام کی حالت نہیں رہتی۔غم کی خبر دیکھیں تو بالکل نڈھال ہو کر اس غم کے اثر کے نیچے دب جاتے ہیں۔خوف کی خبر سنیں تو خوف سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم کافروں کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَفَرِح فَخُور (ھود: 1) وہ چھوٹی سی بات پر نہایت خوش ہو جانے والے اور معمولی سے حاصل کے نتیجے میں بے حد فخر کرنے لگتے ہیں۔اچھلتے ہیں اور اپنی بڑائی بیان کرتے ہیں تو درحقیقت ہر روز ہر لمحہ جب بھی ہم پر بیرونی عوامل اثر انداز ہوں وہ وقت ہے تقویٰ کا حق ادا کرنے کا اور اس وقت انسان اکثر بے خبری کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی بیدار مغزی کے ساتھ اپنے نفس پر غور نہیں کرتا تا کہ مجھ سے جو سلوک کیا گیا ہے یا جو کچھ مجھے اطلاع ملی ہے یا جو تبدیلی میرے حالات میں پیدا ہوئی ہے اس کے نتیجے میں میں اگر خدا کی نظر میں رہنے والا انسان ہوں یا یہ معلوم ہو کہ کون مجھے دیکھ رہا ہے تو میں کیا