خلیج کا بحران — Page 100
۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء ہیں۔یوگوسلاویہ میں دیکھیں چھ Republics ہیں اور ان چھ ر پبلک میں سے ہر ایک ،ایک دوسرے سے غیر مطمئن اور ایک دوسرے سے دور بھاگنے کے لئے کوشش کر رہی ہیں۔دو خود مختار Republics ہیں جو کی تھولک مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں اور با وجود اشتراکیت کے لمبے دور کے کیتھولیسزم Catholicism وہاں آج تک بڑی قوت سے موجود ہے یعنی سیاسی حیثیت میں قوت کے ساتھ موجود ہے مذہبی حیثیت سے پتا نہیں کس حد تک موجود ہے۔ان میں سلو و یکیا (Slovakia) اور کروشیا (Croatia) یہ دو بڑی بڑی ریپبلکس ہیں جو سب سے زیادہ امیر بھی ہیں ان کے اندر جو علیحدگی پسندی کے رجحانات ہیں یہ بڑے نمایاں ہورہے ہیں۔جنوب میں سر بیا Serbia مسلمان اکثریت کا علاقہ ہے اور اسی طرح ایک اور علاقہ ہے غالباً کسو و دو یا اس قسم کے نام ہیں ، مجھے کچھ صحیح تلفظ یاد نہیں مگر Albanian speaking جو بھی علاقے ہیں ان کی بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے پس وہاں مذہب جمع قومیت اور سابق میں ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک ، یہ چیزیں مل کر ان کو آزادی پر انگیخت کر رہے ہیں اور وہاں بھی تحریکات پیدا ہورہی ہیں اور اس وقت یوگوسلاویہ کی مرکزی حکومت کو ان مسلمان علاقوں سے ایسے خطرات محسوس ہو رہے ہیں کہ ان پر دن بدن زیادہ بختی ہو رہی ہے اور باہر سے لوگوں کے لئے وہاں جانا اور زیادہ مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے۔باقی جگہ نسبتاً آزادی ہے۔ابھی ہم نے حال ہی میں ایک مرکزی وفد وہاں بھجوایا تھا۔ایک بڑی کتابوں کی نمائش میں شرکت کے لئے۔تو انہوں نے بتایا کہ وہاں مسلمان علاقوں میں وہ نہیں جا سکے لیکن دوسرے علاقوں میں جہاں کچھ مسلمان بستے ہیں ان سے ان کا رابطہ ہوسکا۔وجہ یہ تھی کہ وہاں آجکل بڑی سختی کی جارہی ہے۔سپین میں علاقائی تفریق اور اس کے نتیجے میں بموں کے دھماکے ایک لمبے عرصے سے جاری ہیں اور وہ تنازعات ایسے ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو مستقل رہتا ہی ہے۔جس طرح آئر لینڈ کا ناسور ہے۔پھر بین الاقوامی سرحدی تنازعات ہیں۔پھر ایسے تنازعات ہیں جس میں بعض قوموں نے بعض چھوٹی قوموں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے علاقوں کو ہمیشہ کے لئے اپنے ساتھ ضم کر چکے ہیں۔