خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 376

خلیج کا بحران — Page 5

۳ راگست ۱۹۹۰ء جیسا کہ پہلے کرتی چلی آئی ہے۔امر واقعہ یہ ہے اس وقت مسلمانوں کی طاقتیں اپنی دولت کو اپنے ہی بھائیوں کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔وہ تیل جس کو خدا تعالیٰ نے ایک نعمت کے طور پر اسلامی دنیا کو عطا کیا تھا، وہ تیل جہاں غیروں کے لئے عظیم الشان ترقیات کا پیغام بن کر آیا ہے اور وہ اس کے نتیجے میں اپنی تمام صنعت کو چلا رہے ہیں اور ہر قسم کی طاقت کے سرچشمے جن کی بنیاد میں مسلمان ممالک میں ہیں ان کے لئے فائدے کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔جہاں تک مسلمان ممالک کا تعلق ہے وہ اس تیل کو ایک دوسرے کے گھر پھونکنے اور ایک دوسرے کی مملکتوں کو جلا کر خاکستر کر دینے میں استعمال کر رہے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس کے سوا اس کا آخری تجزیہ اور کوئی نہیں بنتا۔اب بھی وقت ہے اگر عالم اسلام تقویٰ سے کام لے اور قرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل پیرا ہونے کا فیصلہ کر لے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کوئی غیر مسلم طاقت اسلامی معاملات میں کسی طرح دخل دینے پر مجبور ہو اور ضروری ہے کہ ان دو قرآنی آیات کی تعمیل میں اس مسئلے کو جو آج بہت ہی بھیانک شکل میں اٹھ کھڑا ہوا ہے محض عرب دنیا تک محدود نہ رکھا جائے کیونکہ جب آپ اسلام کے لفظ کو بیچ میں سے اڑا دیتے ہیں اور ایک اسلامی مسئلے کو علاقائی مسئلہ بنا دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں خدا تعالی کی تائید اپناہاتھ کھینچ لیتی ہے۔پس تعلیم قرآن میں کسی قوم کا ذکر نہیں ہے جو ہدایت قرآن کریم نے عطا فرمائی ہے، اس میں مسلمانوں کا بحیثیت مجموعی ذکر ہے اور ان سب کو بھائی بھائی قرار دیا گیا ہے۔پس یہ ہرگز عرب مسئلہ نہیں ہے یہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔اس میں انڈونیشیا کو بھی اسی طرح ملوث ہونا چاہئے جس طرح پاکستان کو ، ملائیشیا کو بھی اسی طرح ملوث ہونا چاہئے جیسے الجیریا کو یا دوسرے ممالک کو اور سب مما لک کا ایک مشتر کہ بورڈ تجویز کیا جانا چاہئے جوفریقین کو مجبور کریں کہ وہ صلح پر آمادہ ہوں اور اگر وہ صلح پر آمادہ نہ ہوں تو تمام عالم اسلام کی طاقت کو اس ایک باغی طاقت کے خلاف استعمال ہونا چاہئے اور تمام غیر مسلم طاقتوں کو یہ پیغام دے دینا چاہئے کہ آپ ہمارے معاملات سے ہاتھ کھینچ لیں اور ہمارے معاملات میں دخل نہ دیں۔ہم قرآنی تعلیم کی رو سے اس بات کے اہل ہیں کہ اپنے معاملات کو خود سلجھا سکیں اور خود نپٹا سکیں مگر افسوس ہے کہ اس تعلیم پر عمل درآمد کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔