خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 376

خلیج کا بحران — Page 66

۶۶ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء یہ باتیں بھی داخل کر رہے ہیں اللہ بہتر جانتا ہے سچ ہے یا جھوٹ ہے لیکن مقصد یہ ہے کہ اگر ہم عراق کو کلیہ تباہ و برباد کریں اور کچھ بھی وہاں باقی نہ چھوڑیں تو دنیا کی رائے عامہ مطمئن ہو جائے کہ اصل وجہ کیا تھی اور یورپ اور مغرب میں جب یہ باتیں بیان کرتے ہیں کہ ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے اس بات پر اور اُس بات پر تو یہ وجہ نہیں ہے کہ اپنے راز خود اُگل رہے ہیں بلکہ پراپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر یہ باتیں بتانے پر مجبور ہیں ورنہ مغربی رائے عامہ اتنا اقتصادی رجحان رکھتی ہے کہ اگر یہاں یہ بات ذہن نشین ہو جائے کہ اس جنگ کے نتیجے میں شدید اقتصادی نقصانات ہمیں پہنچیں گے تو مغربی رائے عامہ یقیناً اپنے سیاستدانوں کو اس جنگ کی اجازت نہیں دے گی۔پس یہ ان کی مجبوریاں ہیں۔یہ نہیں کہ کسی جاسوس نے یہ باتیں نکالی ہیں۔کھلے عام اب یہ باتیں ہورہی ہیں وجہ اُس کی یہی ہے کہ رائے عامہ کو ابھارنا ہے اور رائے عامہ کو اکٹھا کرنے کی خاطر یہ قربانی کرنی پڑتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری جنگ کی تیاری ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی جنگ اب تھوپی جائے گی اُس میں عالم اسلام خود عالم اسلام کے دور رس مفادات کو ہمیشہ کے لئے تباہ و بر باد کرنے کے لئے پوری مستعدی سے ان کا ساتھ دے رہا ہوگا۔اس سے زیادہ بھیا نک تصور انسان کے دماغ میں اسلام کے تعلق میں نہیں اُبھر سکتا کہ دنیا کی اکثر مسلمان قومیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے مغربی دنیا کا اس بات میں بھر پور ہاتھ بٹائیں اور ان کے افعال کی پوری ذمہ داری قبول کریں ، ایک اُبھرتی ہوئی اسلامی طاقت کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے کہ اُس کا نام ونشان مٹ جائے۔عالم اسلام کے لئے دعا کی تحریک ہمارے پاس تو سوائے دُعا کے اور کوئی ہتھیار نہیں ہے اور میں پہلے ہی جماعت کو متوجہ کر چکا ہوں۔میں بھی دعا کرتا ہوں ہمیشہ آپ بھی یقین ہے کہ دعاؤں میں اس بات کو یا در کھتے ہوں گے۔یہ خطرہ سارے عالم اسلام کے لئے خطرہ ہے اور کوئی معمولی خطرہ نہیں۔اس کے عقب میں بہت سے