خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 376

خلیج کا بحران — Page 58

۵۸ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء صرف ایک لحاظ سے قوموں کو قوموں سے یا فرد کو فرد سے الگ کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہ ہے تقوی۔اگر کوئی زیادہ متقی ہے تو قطع نظر اس کے کہ اُس کی قوم کیا ہے اُس کا مذہب کیا ہے، اُس کا رنگ کیا ہے، جغرافیائی لحاظ سے وہ کس ملک کی پیداوار ہے اُس کی عزت کی جائے گی۔گویا تقویٰ انگلستان کے باشندے کو ویلز کے باشندے سے ملا دے گا اور ویلز کے باشندے کو سکاٹ لینڈ کے باشندے سے ملا دے گا اور سکاٹ لینڈ کے باشندے کو آئرلینڈ کے باشندے سے ملا دے گا اور اسی طرح افریقہ کے باشندوں سے بھی ان کو ہم آہنگ کر دے گا اور عرب کے باشندوں سے بھی ان کو ہم آہنگ کر دے گا اور روس کے باشندوں سے بھی ہم آہنگ کر دے گا اور چین کے باشندوں سے بھی ہم آہنگ کر دے گا اور جاپان اور امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک سے بھی تقویٰ رکھنے والے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہو جائیں گے اور یہی وہ قومی نظریہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اس کے سوا اور کوئی قومی نظریہ نہیں۔تقویٰ کی بناء پر عزتیں کی جائیں گی، تقویٰ ہی اس لائق ہے کہ اس پر نظر رکھی جائے اور ہم مزاج لوگ جو نیکی کے نام پر اکٹھے ہوں وہ نیکوں کی ایک قوم بنانے والے ہوں گے مگر اس قوم کا سیاسی تفریق اور سیاسی تقسیم سے کوئی تعلق نہیں۔یورپ میں ابھرنے والے نسلی تعصبات کا ثبوت اب جہاں روس میں نئی تبدیلیاں اثر انداز ہو رہی ہیں اور غلط رنگ میں قومی نظریے اُبھر رہے ہیں وہاں یورپ میں اور دیگر مغربی دنیا میں بھی نئے قسم کے نسلی تعصبات اُبھر رہے ہیں جن کا تعلق اندرونی طور پر بھی ہے اور بیرونی طور پر بھی ہے۔اندرونی طور پر یورپ میں اب لازماً ایک قوم کے دوسری قوم کے خلاف عدم اطمینان کے جذبات ابھرنے والے ہیں اور عدم اعتماد کے جذبات اُبھرنے والے ہیں اور ایک دوسرے سے اگر آج رشک ہے تو کل حسد میں تبدیل ہونے والا ہے اور جہاں ایک طرف یورپ آپس میں اکٹھا ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہاں اسی باہمی اتحاد کی رو میں افتراق کے بیج بوئے جاچکے ہیں اور لا زمانے اکٹھے ہونے والے یورپ کے اندر شدید اختلافات پیدا