خلیج کا بحران — Page 330
۳۳۰ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء بالائی طبقہ کہلا تا ہے وہ غریب کی زندگی سے بالکل بے حس ہے اور اس کو پتا ہی نہیں کہ غریب ان کی آنکھوں کے نیچے کیسے بد حالی میں زندگی گزار رہا ہے۔پس جہاں تکلیف محسوس ہوتی ہے وہاں اختیار کوئی نہیں ، وہاں قوم کی پالیسیاں نہیں بنائی جاتیں اور جہاں پالیسی بنانے والے دماغ ہیں، حکمت عملی طے کرنے والے سر ہیں وہاں تکلیف کا احساس نہیں پہنچتا۔پس ایک گہری اعصابی بیماری ہے جس طرح ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو نچلے دھڑ کا اوپر کے دھڑ سے واسطہ نہیں رہتا۔پاؤں جل بھی جائیں تو دماغ کو پتا نہیں لگتا۔پس یہ ہولناک بیماری ہے جو بھیک مانگنے کے نتیجے میں تیسری دنیا کے ملکوں کو لاحق ہو چکی۔ہے۔فوجی امداد کی لعنت اس کے بعد فوجی امداد کی بات آپ دیکھ لیجئے۔زیادہ مہنگے ہتھیار جب آپ خریدیں گے تو وہ اقتصادی حالت جس کا پہلے ذکر گزرا ہے وہ اور بھی زیادہ بدتر ہوتی چلی جائے گی اور یہی ہورہا ہے اور چونکہ آپ زیادہ نہیں خرید سکتے اس لئے مانگنے پر مجبور ہیں۔جب آپ ہتھیار دوسری قوموں سے مانگتے ہیں تو ہتھیاروں کے ساتھ ان کے فوجی تربیت دینے والے بھی آتے ہیں یا آپ کے فوجی تربیت حاصل کرنے کے لئے ان کے ملکوں میں بھی جاتے ہیں اور جتنا بھی غیر قوموں کا جاسوسی کا نظام تیسری دنیا میں موجود ہے اس کا سب سے بڑا ذمہ دار یہی فیکٹر (Facter) یہی صورتحال ہے کہ ہتھیار مانگنے کے نتیجہ میں اپنی فوج کو دوسرے ملکوں کے تابع فرمان بنانے کے احتمالات پیدا کر دیتے ہیں اور جہاں تک میں نے تفصیل سے فوجی امداد دینے والی قوموں اور فوجی امداد لینے والی قوموں کے حالات کا جائزہ لیا ہے خود ان کے مصنفین کھلم کھلا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جہاں جہاں بھی فوجی امداد دی گئی ہے وہاں وہاں فوجوں میں اپنے غلام بنالئے گئے ہیں اور کثرت کے ساتھ یہ واقعہ دنیا کے ہر ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں فوجی امداد پہنچ رہی ہے۔اب اس حصے میں سب سے زیادہ خطر ناک بات یہ ہے کہ صرف امریکہ ہی نہیں ہے جو فوجی امداد کے ذریعے دوسرے ملکوں کو غلام بنارہا