خلیج کا بحران — Page 319
۳۱۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۸ مارچ ۱۹۹۱ء امن عالم کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے والے ہمہ گیر مشورے ( خطبه جمعه فرموده ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انتہائی ہولناک مظالم کی ایک اور داستان خلیج کی جنگ جس کا آغاز 16 جنوری کو ہوا۔26 فروری کو ایک نہایت ہی ہولناک رات کو اختتام پذیر ہوئی۔یہ ایک ایسی خوفناک مصائب کی رات تھی کہ جس کی کوئی مثال جدید انسانی جنگوں کی تاریخ میں دکھائی نہیں دیتی۔اس قدر بمباری عراق کی واپس اپنے ملک جاتی ہوئی فوجوں پر کی گئی ہے اور اس قدر بمباری رات بھر بغداد شہر پر کی گئی کہ جہاں تک میں نے جنگی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے کسی اور ملک میں کسی اور جنگ میں کبھی ایسی خوفناک ظالمانہ یک طرفہ شدید بمباری نہیں کی گئی جو فوجیں کو یت چھوڑ کر واپس بصرہ کی طرف جارہی تھیں ان کے متعلق مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح انہیں بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ ساری سڑک کویت سے بصرہ تک لاشوں سے اٹی پڑی تھی اور ٹوٹے بکھرے ہوئے گاڑیوں کے موٹروں کے ، بکتر بند گاڑیوں کے اور دوسرے کئی قسم کی Transport کے ٹوٹے ہوئے پرزے ہر طرف بکھرے پڑے تھے اور تباہی کا ایسا خوفناک منظر تھا کہ جسے انسان برداشت نہیں کر سکتا۔یہ مغربی مبصرین کا تبصرہ ہے اور بمباری کے متعلق یا عراق میں بغداد پر بمباری