خلیج کا بحران — Page 315
۳۱۵ یکم مارچ ۱۹۹۱ء مشتمل ہوتی ہے جن کی سیاست بھی اس طرح کھائی جاتی ہے جس طرح کسی چیز کو کیڑا کھا جاتا ہے۔ان کی سیاست بھی پیسہ کمانے کے لئے استعمال ہونے لگتی ہے۔ان کی سیاست بھی دھڑے بندیوں کے لئے استعمال ہونے لگتی ہے۔ان کی سیاست بھی غریبوں پر رعب جمانے کے لئے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کے لئے استعمال ہونے لگتی ہے گویا کہ سیاست کا رخ تمام تر ان امور کی طرف پھر جاتا ہے جن کے لئے سیاست بنائی نہیں گئی تھی۔نتیجتا ملک کے اہم امور سے وہ غافل ہو جاتے ہیں۔ان کے لئے سوچ کا وقت ہی نہیں رہتا۔ان کی سوچوں کی لہریں تمام تر مسلسل ایک ہی طرف بہتی رہتی ہیں کہ کس طرح اپنا نفوذ قائم کریں، کس طرح اپنے دشمنوں سے بدلے لیں ،کس طرح زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کریں۔یہ سیاست کی زندگی چند دن کی تو ہے۔کل پتا نہیں کیا ہونے والا ہے۔پھر جو کچھ کمانا ہے آج کمالو۔خواہ عزتیں بیچ دو، خواہ ووٹ بیچو، خواہ ووٹ خریدو۔ہر چیز جب سیاست میں جائز قرار دے دی جائے تو جو سیاستدان پیدا ہوں گے وہ قوم کے مفاد کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں اور اس سارے رجحان میں سب سے زیادہ ظالمانہ کر دار مصنوعی معیار زندگی ادا کرتا ہے۔جن قوموں میں اپنی اقتصادی توفیق سے بڑھ کر عیاشی کے رجحان پیدا ہو جائیں۔وہ قو میں بھکاری بن جاتی ہیں ان کی سیاست بھی داغدار ہو جاتی ہے، ان کی اقتصادیات بھی پارہ پارہ ہو جاتی ہے ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پس یہ صیحتیں کن پر اثر کریں گی ، کون سے کان ہوں گے جوان نصیحتوں کو سنیں گے، کون سے دل ہوں گے جو ان نصیحتوں کو سن کر ہیجان پذیر ہوں گے اور ان میں حرکت پیدا ہوگی۔اگر تمام تر سیاست اور اخلاق اور اقتصادیات کی بنیاد ہی متزلزل ہو۔اگر نظریات بگڑے ہوئے ہوں اگر نیتیں گندی ہو چکی ہوں تو دنیا میں کوئی صحیح نصیحت کسی پر نیک اثر نہیں دکھا سکتی۔اس لئے جس طرح میں نے غیر قوموں کو نصیحت کی ہے کہ خدا کے لئے اپنی نیتوں کی حفاظت کرو۔تمہاری نیتوں میں شیطان اور بھیڑ یئے شامل ہیں اور دنیا کی ہلاکت کا فیصلہ تمہاری نیتیں کرتی ہیں۔تمہاری سیاسی چالاکیاں تمہاری نیتوں پر غالب نہیں آسکتیں بلکہ ان کی مد ہو جایا کرتی ہیں اسی طرح میں مسلمان ملکوں اور تیسری دنیا