خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 376

خلیج کا بحران — Page 305

۳۰۵ یکم مارچ ۱۹۹۱ء دوسرے اس اعلان کی ضرورت ہے کہ ہر وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف غیر عادلانہ نظریہ منسوب کرے گا وہ کلام الہی کی گستاخی کا مرتکب شمار ہوگا اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا جائے کہ ہر وہ شخص جو حدیث رسول کی طرف قرآن کریم کے خلاف نظریات منسوب کرنے کی کوشش کرے، وہ کلام رسول کی گستاخی کا مرتکب شمار کیا جائے گا۔یہ ایک ہی لائحہ عمل ہے جو عالم اسلام کے اندرونی تضادات کو دور کر سکتا ہے۔اگر آج کسی سیاستدان کے دماغ میں روشنی ہے اور وہ تقویٰ رکھتا ہے اور انصاف کا دامن پکڑے ہوئے ہے۔اگر آج اس میں یہ جرات ہے کہ حق بات کر سکے اور حق طریق پر کر سکے، اگر آج وہ اپنی قوم اور عالم اسلام سے محبت رکھتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس میدان میں اسلام کے حق میں جہاد کا آغاز کرے ورنہ یہ میدان نہ جیتا گیا تو کوئی اور میدان نہیں جیتا جائے گا۔اگر چہ ایک گونہ منافقت کے ذریعے مسائل ٹل رہے ہیں لیکن بلا ہمیشہ کے لئے سر سے اتر نہیں گئی۔عالم اسلام میں ہم یہ واقعہ بار بار ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ جب بھی عالم اسلام کو کہیں سے کوئی خطرہ در پیش ہو وہیں ملائیت کو فروغ ملنے لگتا ہے اور ملائیت دماغوں میں زیادہ سے زیادہ نفوذ کرنے لگتی ہے اور اس وقت ایک انتہا پسند انقلاب کے خطرات سر پر منڈلانے لگتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے اور بڑھتا چلا جارہا ہے۔اگر حکمت کے ساتھ بر وقت اس کا انسداد نہ کیا گیا اور عوام کی سوچ میں اور سیاست کی سوچ میں مذہبی اور سیاسی نقطہ نگاہ سے یک جہتی پیدا نہ کی گئی تو اسلامی ممالک ہمیشہ کمزور رہیں گے اور ہمیشہ اندرونی خطرات کی وجہ سے یہ زلزلوں میں مبتلا ر ہیں گے اور کبھی ان کو استحکام نصیب نہیں ہوسکتا۔اس لئے دو ٹوک فیصلوں کی ضرورت ہے اور آج ان فیصلوں کی ضرورت ہے کیونکہ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے اور ہم سے مزید رحم کا سلوک نہیں کرے گا۔رحم کا سلوک کتنی دفعہ ہمیں سزا دے چکا ہے۔کتنی دفعہ ہمیں دنیا میں ذلیل اور رسوا کر چکا ہے اگر آج نہیں اٹھو گے تو پھر کبھی نہیں اٹھ سکو گے اس لئے اٹھو اور یہ فیصلے کرو اور خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ فیصلے کرو کہ حق کے لئے حق نام کی تلوار اٹھاؤ گے اور وہ نظریاتی جہاد شروع کرو گے جس کی قرآن کریم نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ تم پر اس جہاد کو واجب کر رہا ہے۔