خلیج کا بحران — Page 303
٣٠٣ یکم مارچ ۱۹۹۱ء میں بیان کردہ سلوک کریں اور ہنود کو بھی یہ حق نہیں کہ مسلمانوں سے منوسمرتی میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق سلوک کریں۔پس یہ تیسرا تصور عدل ہے۔یہ صرف تین مثالیں ہیں لیکن حقیقت میں آپ مزید جائزہ لیں تو بہت سے اور امور بھی ایسے ہیں جن میں آج کے مولوی کا پیش کردہ تصور اسلام قرآن کریم کے واضح اور بین اصول عدل سے متصادم ہے اور اسے رد کرنے کے مترادف ہے۔آج دنیا میں اسلام کے خلاف سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھیار یہی وہ تین اصول ہیں جن کی فیکٹریاں مسلمان ملکوں میں لگائی گئی ہیں۔یہو دسب سے زیادہ کامیابی کے ساتھ ان تین اسلامی اصولوں کو یعنی نعوذ بالله من ذالك اسلامی اصولوں کو مولویوں کے بنائے ہوئے اسلامی اصولوں کو کہنا چاہئے۔مغربی دنیا میں اور دوسری دنیا میں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے تمہیں کس طرح امن نصیب ہوسکتا ہے ان لوگوں سے ہمیں کس طرح امن نصیب ہو سکتا ہے جن کا انصاف کا تصور اور عدل کا تصور ہی پاگلوں والا تصور ہے جس کے اندر کوئی عقل کا شائبہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔مسلمانوں کے لئے اور حقوق غیروں کے لئے اور حقوق،سارے حقوق دنیا میں راج کرنے کے مسلمانوں کو اور سب غیر ہر دوسرے حق سے محروم۔اگر نعوذ باللہ من ذالک یہ قرآنی اصول ہے تو لا زم ساری دنیا اس اصول سے متنفر ہوگی اور مسلمانوں کو امن عالم کے لئے شدید خطرہ محسوس کرے گی۔پس صرف یہی کافی نہیں کہ غیروں سے ان زیادتیوں کے شکوے کئے جائیں جو مسلمان پر کی جاتی ہیں۔اپنے پر بھی نظر ڈالنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ یہ زیادتیاں کیوں ہو رہی ہیں اور شاطر دشمن کس طرح مسلمانوں کے خلاف خود مسلمانوں کے بنائے ہوئے ہتھیاروں کو استعمال کر رہا ہے پس امر واقعہ یہی ہے کہ اسلامی ممالک میں اسلام کی طرف منسوب ہونے والے نہایت مہلک ہتھیاروں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں اور ملاں ان کا رخانوں کو چلا رہے ہیں اور بھاری تعداد میں دشمن ممالک میں یہ دساور کو بھیجے جاتے ہیں اور ان کی برآمد ہوتی ہے اور پھر یہی ہتھیار عالم اسلام کے خلاف استعمال کئے جاتے ہیں۔