خلیج کا بحران — Page 289
۲۸۹ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء خدا کے حضور راتوں کو اٹھو اور اس طرح پگھلو اور دردناک کراہ کے ساتھ اور دردناک چیخوں اور سکیوں کے ساتھ خدا کے حضور گریہ وزاری کرو اور یقین رکھو کہ جب تمہاری روحیں خدا کے آستانے پر پگھلیں گی تو دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے پگھلنے کے دن آجائیں گے اور یہ وہ تقدیر ہے جسے کوئی دنیا کی طاقت تبدیل نہیں کر سکتی۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا :۔حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر صلاح الدین صاحب کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں عارضہ قلب سے وفات پاگئے۔بہت ہی مخلص اور فدائی انسان تھے۔ان کا سارا خاندان ہی دین کی خدمت میں قربانی کرنے والا ہے مگر شمس صاحب نے جو روایتیں قائم کی ہیں وہ تو انمٹ ہیں۔یہ بچہ صلاح الدین جب پیدا ہوا تھا تو اس کے تھوڑے عرصے بعد یا اس سے پہلے ہی مولوی جلال الدین صاحب شمس غیر ملکوں میں فریضہ تبلیغ کے لئے روانہ ہو چکے تھے۔انگلستان میں بہت عرصہ رہے جب واپس گئے تو اس بچے کی عمر 11 ،12 سال کی تھی اور سٹیشن سے جب مولوی صاحب کو گھر لایا جارہا تھا اور ٹانگے میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو مولوی صاحب نے کہا کہ صلاح الدین کہاں ہے۔میرا دل چاہتا ہے میں اپنے بچے کو دیکھوں ، اس پر کسی نے کہا کہ مولوی صاحب صلاح الدین آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے، اس کو دیکھیں۔یہ قربانی کرنے والے احمدی ہیں جن کی اولاد میں اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگے پھر دین میں جت رہی ہیں۔پھر آگے انشاء اللہ ان کی اولادیں جتی رہیں گی۔تو مولوی منیر الدین صاحب شمس نے مجھے توجہ دلائی کہ اگر کسی کا حق ہے جنازہ غائب کا تو پھر میرے بھائی کا تو بدرجہ اولی حق ہے میں نے اسے تسلیم کیا۔عام طور پر تو جب کوئی حاضر جنازے آتے ہیں تو ہم دوسرے جنازے ساتھ ملالیا کرتے ہیں مگر جس رنگ میں مجھے تحریک ہوئی ہے۔میں نے اس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے کہ آج جمعہ کے بعد اور عصر کے بعد مولوی جلال الدین صاحب شمس مرحوم مغفور کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر صلاح الدین کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی جائے گی۔