خلیج کا بحران — Page 227
۲۲۷ ۸ فروری ۱۹۹۱ء صدر بش نے بار بار فون پر رابطے کئے منتیں کیں بڑے نرم لہجے میں درخواستیں کیں کہ کوئی فوری کارروائی اس کے رد عمل کے نتیجے میں نہ کرنا۔بعد میں اپنے نمائندہ بھیجے جن کے ذریعے گفت و شنید ہوئی اور آخری نتیجہ یہ نکلا کہ اگر تم کوئی فوری کاروائی نہ کرو تو ہم تمہاری طرف سے زیادہ سے زیادہ انتقام لینے کی کوشش کریں گے اور جو Civilians پر بمباریاں ہوئی ہیں اور لاکھوں معصوم شہید ہوئے ہیں اور جن کے گھر برباد کئے گئے ، یہ دراصل اسرائیل کی انتقامی کارروائی Allies نے اپنے ذمے قبول کی تھی اور اسی پر عملدرآمد ہوا ہے۔دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس کے علاوہ ہم تمہیں نوبلین ڈالر بطور اقتصادی مدد کے دیں گے آپ اندازہ کریں نوبلین ڈالر کی رقم تو ایک دولت کا پہاڑ ہے اور کس چیز کے بدلے اس چیز کے بدلے کہ وہ انتقامی کارروائی سے باز آجائے؟ نہیں۔بار بار اس کو یقین دلایا گیا ہے کہ یہ صرف وقتی طور پر انتقامی کارروائی ٹالنے کی خاطر کیا جارہا ہے۔اس کے بعد تمہیں حق حاصل ہے کہ جب چاہو ، جس طرح چاہو جس زمانے میں چاہو تم اس جارحیت کا بدلہ لو۔اسی لئے میں نے کہا تھا کہ اسرائیل کا یہ حق تسلیم کیا جاچکا ہے کہ وہ جارحانہ کارروائیاں کرے اور کوئی ملک اس کے خلاف مدافعانہ کارروائی بھی نہ کرے اور اگر وہ مدافعانہ کا روائی کرے گا تو اس کے خلاف ساری دنیا کی طاقتیں جارحانہ کارروائی بھی کریں گی اور اسرائیل کا جارحانہ کارروائی کا حق باقی رہے گا اور وہ کب اور کس طرح پورا ہوتا ہے یہ ابھی دیکھنے والی بات ہے۔تو یہ ہے New World Order جس کا خواب صدر بش نے دیکھا ہے اور جس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ اس سے دنیا میں ہمیشہ کے لئے امن کی ضمانت ہو جائے گی۔اس خواب کے کچھ اور حصے بھی ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ اسرائیل تو کسی قیمت پر بھی مغربی علاقہ خالی نہیں کرے گا لیکن مجھے یہ خطرہ ہے کہ مشرقی علاقے پر قبضہ کرنے کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔مجبوری کے تحت شاہ حسین ہیں جو نیوٹرل رہے اور انہوں نے صرف یہ قصور کیا ہے کہ دو تین دن پہلے اپنی پریس کانفرنس میں یا تقریر میں اس بات پر سخت اظہار افسوس کیا ہے کہ اتحادیوں نے معصوم