خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 376

خلیج کا بحران — Page 189

۱۸۹ یکم فروری ۱۹۹۱ء اسرائیل نے ہتھیایا ہوا ہے اور بڑی دیر سے ان کی اسرائیل سے مخاصمت اور لڑائی چلی آرہی ہے اور اس تاریخی دور میں جب سے اسرائیل کا قیام ہوا ہے Syria نے اسرائیل کی مخالفت میں بڑی قربانیاں پیش کی ہیں اور اپنے علاقے بھی گنوائے لیکن اپنے مؤقف کو تبدیل نہیں کیا۔اس کے علاوہ صدام کی جو تصویر مغربی قومیں آج کھینچ رہی ہیں اس سے بہت زیادہ بھیانک اور بدصورت تصویر صدر حافظ الاسد کی انہی قوموں نے کھینچ رکھی تھی اور اب تک وہی قائم ہے اس لئے بھی میں نہیں سوچ سکتا تھا کہ جب مغربی قو میں ایک طرف صدر صدام کو گندی گالیاں دیں گی اور اس کی کردار کشی کر رہی ہوں گی تو صدر حافظ الاسد کس طرح یہ سمجھیں گے کہ میں اس سے بچ کر ان کے ساتھ گلے مل سکتا ہوں لیکن ان کو یعنی صدر بش کو اور صدر حافظ الاسد کو میں نے اکٹھے ایک صوفے پر بیٹھے دوستانہ باتیں کرتے ہوئے ٹیلویژن پر دیکھا اور ان کی پالیسی کو یکسر اس طرح بدلتے دیکھا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے، کچھ سمجھ نہیں آتی۔انسان ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ایران کی مستحسن روش ایران سے مجھے نہ توقع تھی ، نہ ہے نہ ہوگی کیونکہ ایران کے متعلق پہلے بھی میں بارہا کھلم کھلا یہ اقرار کر چکا ہوں کہ مذہبی عقائد سے اختلاف کے باوجود ایرانی قوم اسلام کے معاملے میں منافقت نہیں کرتی۔اسلام کی سچی عاشق ہے۔ان کا اسلام کا تصور غلط ہوسکتا ہے یہ تو ہوسکتا ہے کہ شیعہ ازم میں بعض ایسے عقائد کے قائل ہوں جن سے ہم اتفاق نہیں کرتے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسلام کے تصور میں جہاں تک سیاست کا تصور ہے ان کے خیال میں بہت سی غلطیاں ہوں یعنی اسلام کے سیاسی تصور میں ان کے خیال میں غلطیاں ہوں اور ہیں میرے نزدیک لیکن جان بوجھ کر اسلام سے غداری کریں یہ ایرانی قوم سے ممکن نہیں ہے اور ان کی تاریخ بھی خدمت اسلام کی عظیم کارناموں سے روشن ہے بلکہ جتنی علمی خدمت اسلام کی وسیع تر ایران نے کی ہے جس کا ایک حصہ اب روس کے قبضے میں ہے اس خدمت کو اگر باقی اسلام کی خدمت کے مقابل پر رکھیں تو آپس میں