خلیج کا بحران — Page 154
ج کا بحران ۱۵۴ ۱۸/جنوری ۱۹۹۱ء ہے، جو انسانی قدروں کی بلندی چاہتا ہے اور کسی ایک قوم کی عصبیتی فتح کے نتیجے میں وہ نہیں ہوسکتا اس عالم اسلام کی میں بات کر رہا ہوں۔اس عالم اسلام پر انتہائی درد کی کیفیت طاری ہے۔دن رات دل دکھے ہوئے ہیں۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ صدر صدام کے ہر فیصلے پر صاد کر رہے ہیں۔ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں۔صدر صدام نے جو یہ فیصلہ کیا کہ اسرائیل پر وہ سکڈ میزائلز پھینکیں اس کے نتیجے میں نقصان تو اتنا معمولی ہوا ہے کہ ایک معمولی بس کے حادثہ میں بھی اس سے بہت زیادہ نقصان ہو جایا کرتا ہے۔زلزلے کے نتیجے میں اس سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ نقصان ہو جاتا ہے جو Terrorist آئر لینڈ سے آکر یہاں بم کے دھماکے کرتے ہیں ان کا نقصان اس سے بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔لیکن تمام دنیا اسرائیل پر اس حملے کے نتیجے میں Appal ہوگئی ہے، یہ الفاظ ہیں پرائم منسٹر آف بریٹین (Prime Minister of Britain) کے کہ ہم Appal ہو گئے ہیں اس قدر حیرت اور سکتے میں پڑ گئے ہیں اور اس قدر خوفناک تعجب انگیز تکلیف پہنچی ہے کہ لفظ نہیں ہیں اس کو بیان کرنے کے لئے تو یہ ہمدردیاں ہیں عالمی قوتوں کی اسرائیل کے ساتھ۔ایسے موقع پر ایک ایسا قدم اٹھانا کہ جس کے نتیجے میں عراقیوں کے لئے اور زیادہ تکلیف ہو اور اگر عراقیوں کو تکلیف پہنچے گی تو چونکہ اکثر مسلمان ہیں اور اکثر عراقی جنگ کے فیصلوں میں ذمہ دار اور شریک نہیں اس لئے دنیا کے ہر شریف انسان کو خواہ وہ مسلمان ہو یا نہ ہو اس تکلیف میں حصہ دار ہونا چاہئے۔پس جو تکلیف نہتے، غریب شہریوں کو پہنچ رہی ہے جو پہلے ہی فاقوں کا شکار ہیں اس پر ان پر ظالمانہ بمباریاں ہو رہی ہیں اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کتنا شدید نقصان اب تک پہنچ چکا ہے ان پر تو کوئی Appal نہیں ہو رہا ہے لیکن اس واقعہ پر اس لئے Appal ہور ہے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل نے جب جوابی کارروائی کی جو مظالم اب تک عراقیوں پر ہو چکے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ مظالم ہوں گے۔پس در اصل اس Appal کے لفظ کے پیچھے یہ حکمت ہے اور دوسرا ایسے خطرات ہیں جو خود غرضانہ خطرات ہیں ان کو خطرہ یہ ہے کہ اگر اس کے نتیجے میں اسرائیل نے کوئی جوابی کارروائی کی اور عالم اسلام پھٹ گیا یعنی پھٹا تو پہلے ہوا ہے مزید پھٹ گیا۔