خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 376

خلیج کا بحران — Page 139

۱۳۹ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء شرطوں پر عراق صلح کرنے پر آمادہ ہو گا لیکن خطرہ مجھے یہ ہے کہ یہی دو شرطیں ہیں جو سب سے زیادہ ان ممالک کے مزاج کے خلاف ہیں جن ممالک نے اس قصے پر ساری دنیا میں ایک طوفان اٹھا رکھا ہے۔یہی وہ دو باتیں ہیں جو کسی قیمت پر ان کو قبول نہیں ہیں۔اگر عراق کی فوجی طاقت کو مٹا دینا ان کے پیش نظر نہ ہوتا، اگر اسرائیل کا تحفظ ان کے پیش نظر نہ ہوتا تو کویت پر قبضے کے نتیجے میں انہوں نے کبھی بھی شور نہیں ڈالنا تھا۔کویت کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔یہ دو بڑے مقاصد ہیں جن کی خاطر یہ سارا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے اور کیسے یہ شرطیں مان جائیں گے جن سے خود یہ اپنے دو مقاصد کے اوپر تبر رکھ دیں اور ان مقاصد کو خائب و خاسر کر دیں اور نامراد کر دیں۔پس یہ ہے آخری خلاصہ صورت حال کا۔جماعت احمدیہ کو میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے شروع میں بات کھول کر بیان کی ہے ہم قومی اختلافات یا مذہبی اختلافات کے نتیجے میں بھی کسی تعصب کو اپنے دل میں جگہ نہیں دے سکتے اور کسی تعصب کی بناء پر ہم فیصلے نہیں کر سکتے کیونکہ ہم دل و جان سے اس بات کے قائل ہیں کہ ہر وہ شخص جو تعصب کو اپنے دل میں جگہ دے یا تعصبات کے نتیجے میں فیصلے کرے وہ صحیح معنوں میں مومن اور مسلم کہلانے کا مستحق نہیں رہتا۔تعصبات اور اسلام کو ایسا ہی بعد ہے جیسے شرق و غرب کو آپس میں بعد ہے اور حقیقی اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ ہر فیصلہ خدا کی ذات کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے اور اسی کا نام تقویٰ ہے۔تقویٰ ہر چیز کی بنیاد ہے ہر اسلامی قدر تقویٰ پر مبنی ہے اور تقویٰ کا حسن یہ ہے کہ تقویٰ خود اپنی ذات میں کسی مذہب کی اجارہ داری نہیں بلکہ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جو ہر مذہب کا مرکزی نقطہ ہونا چاہئے اور ہر مذہب کی تعلیم کو اس مرکزی نقطے کے گرد گھومنا چاہئے۔تقویٰ کا مطلب ہے ہر سوچ خدا کی مرضی کے تابع کر دو اور ہر فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھو کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔پس جماعت احمدیہ سے میں توقع رکھتا ہوں کہ تقویٰ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اول تو تمام بنی نوع انسان کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو تقویٰ سے عاری فیصلوں کے نتیجے میں ان عذابوں میں مبتلا نہ فرمائے جو عام طور پر ایسے حالات میں مقدر ہو جایا کرتے ہیں بلکہ غیر معمولی طور پر