خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 376

خلیج کا بحران — Page 138

۱۳۸ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء ہے۔اسی لئے اس کے بعد صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم عراق پر حملہ نہیں کریں گے۔یہ ساتھ نہیں کہتے کہ ہم عالمی بائیکاٹ ختم کر دیں گے۔اقتصادی بائیکاٹ ختم کر دیں گے۔یہ نہیں کہتے کہ ہم مزید دباؤ ڈال کر تمہارے کیمیائی کارخانے جو جنگوں میں ہلاکت خیز کیمیاوی مادے بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان کو برباد نہیں کریں گے یا ان میں دخل نہیں دیں گے۔یہ نہیں کہتے کہ ہم تمہاری ایٹمی توانائی کے مراکز کو ختم کرنے کے لئے تم سے مزید مطالبے نہیں کریں گے اور مزید دباؤ نہیں ڈالیں گے لیکن یہ نہ کہنے کے باوجود دبی زبان سے یہ اظہار جگہ جگہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد کچھ کرنا ضرور ہے اور عراق خوب اچھی طرح سمجھتا ہے۔عراق جانتا ہے کہ محض کو یت کا مسئلہ نہیں ہے۔اگر میں کو یت خالی بھی کر دوں تو جن مقاصد کی خاطر یہ کویت کی حمایت کر رہے ہیں وہ مقاصد پورے نہیں ہو سکتے جب تک مجھے بالکل ناطاقت کر کے نہ چھوڑا جائے۔پس عملاً صدر صدام کے پاس دو راہیں نہیں بلکہ ایک ہی راہ ہے اور وہ راہ یہ ہے کہ اگر انہوں نے اپنے بدارا دے پورے کرنے ہی ہیں تو پھر اس حالت میں مرا جائے کہ مرتے مرتے ان کو بھی اتنا نقصان پہنچا دیا جائے کہ ہمیشہ کے لئے لولوں لنگڑوں کی طرح رہیں اور پھر پہلے جیسی طاقت اور پہلے جیسا تکبر باقی نہ رہے۔پس جہاں تک میں سمجھتا ہوں صدر صدام حسین اس وجہ سے بضد ہیں کہ تمہاری شرائط پر میں کویت خالی نہیں کروں گا۔ہوسکتا ہے کہ اب Perez De Cuellar اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جو وہاں جار ہے ہیں ان کے ساتھ گفت وشنید کے دوران کچھ باتیں کھل کر سامنے آئیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر Perez De Cuellar کی طرف سے ایسی گفت وشنید کا آغاز ہو جائے جس کے نتیجے میں بالآخر عراق کو یہ تحفظ دیا جائے اور یونائیٹڈ نیشنز کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی جائے کہ اگر تم کو یت کو خالی کر دو تو اول تمام عرب مسئلے کو یکجائی صورت میں دیکھا جائے گا اور United Nations اس کی طرف متوجہ ہوگی اور دوسرے یہ کہ اس کے بعد تمہارے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور عالمی بائیکاٹ کو اٹھا دیا جائے گا اور تمہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے گا۔اگر یہ دو شرطیں ان کھلے الفاظ میں عراق کے سامنے رکھی جائیں تو میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ ان