خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 376

خلیج کا بحران — Page 126

۱۲۶ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء موجود صورت یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ ان قوموں کی فہرست میں اولیت رکھتے ہیں جو شدت کے ساتھ عراق کو کچل دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں اور ان ہی کی راہنمائی میں ، ان ہی کی سیادت اور قیادت میں جنگ کا طبلہ بجایا جارہا ہے اور بار بار اس بات کو دُہرایا جار ہا ہے کہ عراق کو نیست و نابود کر دینا ضروری ہے تاکہ دُنیا باقی رہے۔یعنی عراق اگر اپنی اس طاقت کے ساتھ باقی رہ گیا اور اسے اور موقعہ مل گیا تو دنیا کا امن مفقود ہو جائے گا بلکہ دنیا کے وجود کوشدید خطرہ لاحق ہوگا یہ ایک مؤقف ہے جسے بلند آواز سے دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اور بار بار جب انٹرویوز ہوتے ہیں یا اخبارات میں ان لوگوں کے سوال و جواب چھپتے ہیں تو ان میں ایک بات کو پیش کیا جارہا ہے کہ دیکھو عراق نے کویت پر کتنے مظالم کئے ہیں اور اتنے خوفناک مظالم کے بعد جو عالمی رائے عامہ ہے کس طرح اس کو نظر انداز کر سکتی ہے۔ایسے ظالموں کو جنہوں نے قتل و غارت کیا، جنہوں نے لوٹ مار کی ، گھروں کو جلایا ، ان کو خود زندہ رہنے کا کیا حق رہ جاتا ہے۔اگر آج اس ظلم کے خلاف بیک وقت تمام قوموں نے مل کر پیش قدمی نہ کی اور ظالم کو سزا نہ دی تو پھر ظلموں کی راہیں کھل جائیں گی اور کوئی بھی کسی کو ظلم کی راہ پر چلنے سے روک نہیں سکے گا۔یہ موقف ہے اس کا خلاصہ یہ ہے اور عراق کا موقف اس کے برعکس یہ ہے کہ تم بڑے بڑے اصولوں کی اور اعلیٰ اخلاق کی باتیں کر رہے ہو لیکن بھول جاتے ہو کہ مشرق وسطی میں عرب علاقوں میں جو کچھ بھی بے اطمینانی ہے اور بے چینی ہے جس کے نتیجے میں بار بار امن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اس کے اصل ذمہ دار تم ہو اور جب بھی ایسے مواقع آئے جب اُن مسائل کو جو مشرق وسطی سے تعلق رکھتے ہیں حل کیا جا سکتا تھا تو تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے روکیں پیدا کیں اور ایسی ہی بات جو ہم نے کی ہے یعنی جسے تم ناجائز قبضہ کہتے ہو ، عراق ناجائز تو نہیں کہتا مگر کہتا ہے کہ جس طرح ہم نے کویت پر قبضہ کیا ہے اس طرح اسی قریب کے زمانے میں اسرائیل نے اُردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے اور تم United Nations کی باتیں کرتے ہو حالانکہ United Nations نے بار ہاResolutions کے ذریعے اسرائیل کو قبضہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشیش کیں اور ہر بار خصوصیت کے ساتھ امریکہ نے ان کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکائے