حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ — Page 19
حضرت خدیجتہ الکبری 19 دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔(26) حضور ﷺ نے ان کے بارہ میں رمایا کہ ابو العاص نے دامادی کا خوب حق ادا کیا۔صلى الله صلى الله حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بھتیجے حکیم بن حزام کو بھی ابتداء میں قبول اسلام کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔آپ بچپن سے حضور میلے کے دوست تھے اور جنگ فجار میں اکٹھے حصہ لے چکے تھے آپ سادات قریش میں سے تھے اور علم الانساب کے بڑے ماہر تھے۔رفادہ اور دارالندوہ کا انتظام انہی کے سپر د تھا۔اگر چہ آپ ابتدائی مسلمانوں میں سے نہ تھے لیکن آپ نے دوستی کا اچھا حق ادا کیا اور مشرکین کے مقابل الله پر ہمیشہ حضور ہے اور آپ ﷺ کے صحابہ کی مدد کی۔(27) ان تمام مظالم اور تکالیف کے باوجود اللہ تعالیٰ کا فضل مسلمانوں پر بڑھتا ہی چلا جارہا تھا قریش کے لئے یہ زمانہ بہت ہی پریشان کن تھا۔مکہ کے بیشتر مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے حبثہ پہنچ چکے تھے۔اور وہاں امن وامان کی زندگی بسر کر رہے تھے۔قریش نے انہیں واپس لانے کے لیے جو وفد روانہ کئے تھے نجاشی شاہ حبشہ نے انہیں نا کام واپس کر دیا تھا۔ادھر مکہ میں حمزہ اور عمر بن خطاب جیسے بہادر اور سر کردہ اصحاب اسلام قبول کر چکے تھے۔مکہ کے علاوہ دیگر قبائل میں بھی اسلام پھیلنا شروع