خواب سراب

by Other Authors

Page 31 of 129

خواب سراب — Page 31

کسی کی رہ سے خدا کی رہ سے خدا کی خاطر، اٹھا کے کانٹے ، ہٹا کے پتھر پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے وہ جس کو دیکھے تو دُکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے، شکست کھائے لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے ہزار طاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے ب کی لذت، دُعا کی خوشبو بسا کے رکھنا، کمال یہ ہے ادب 31