خواب سراب

by Other Authors

Page 19 of 129

خواب سراب — Page 19

جلوے ترے ہزار ہیں کوہ و دمن کے پیچ تنتلی بہار پھول کی صورت چمن کے پیچ سنبل گلاب و لالہ و سرو وسمن کے پیچ رنگ و گل و بہار کی ہر انجمن کے پیچ کرتا ہے ڈال ڈال یہاں باشمر بھی تو منزل بھی تیری ذات ہے اور ہمسفر بھی تُو تو وہ ہے جو کہ خاک سے خوشبو نکال دے پھولوں کو رنگ روپ دے اور بے مثال دے اک گن سے کہکشاؤں کو رستے پہ ڈال دے اک دو نہیں ہزار جو سورج اُچھال دے وہ بے مثال و با کمال و با ہنر ہے تو منزل بھی تیری ذات ہے اور ہمسفر بھی تو 19