خواب سراب — Page 75
جس کی خاطر زمانے سے پتھر پڑے، مجھ سے کہنے لگا میں نے تم سے کیا تھا، کبھی کوئی وعدہ؟ نہیں جانتا اک کہانی سنا بات جس میں محبت وحبت کی ہو دنیا داری کی باتوں کو دل کا یہ سادہ نہیں جانتا میں یونہی کوئے جاناں میں بیٹھا نہیں دل بچھائے ہوئے اُس کی قربت کے سکھ کو کوئی شاہزادہ نہیں جانتا عشق یہ ہے مبارک کہ مرشد کے قدموں میں گھر کے کہو جو سکھایا ہے تُو نے مجھے اُس سے زیادہ نہیں جانتا 75