خواب سراب — Page 74
میں محبت کے بارے میں ویسے تو زیادہ نہیں جانتا میں محبت کے بارے میں ویسے تو زیادہ نہیں جانتا ہاں تجھے دیکھ کر اب کوئی جام و بادہ نہیں جانتا دشمن جاں تجھے لے نہ ڈو میں کہیں تیری خوش فہمیاں مجھے جانتا صرف آدھا ہے، آدھا نہیں جانتا اب جو شطرنج میں مات کھائی ہے تو یاد آیا مجھے قرب جتنے بھی ہوں شاہ کے دُکھ، پیادہ نہیں جانتا بھاگ جانے کا جو مشورہ دے رہے ہیں انہیں یہ کہو میری مرضی تو ہے پر میں اُس کا ارادہ نہیں جانتا بات یوں ہے کہ میں اس لئے یار لوگوں سے پیچھے رہا کیسے کرتے ہیں اپنوں سے بھی استفادہ نہیں جانتا 74