خواب سراب — Page 73
وصال یار کو جانا تو ہوکر باوضو جانا وصالِ یار کو جانا تو ہو کر باوضو جانا مجسم با ادب رہنا سراپا آرزو جانا نگاہِ یار وہ شئے ہے جو ذرے کو بھی ذر کر دے اٹھائے خاک سے اور شہر بھر میں معتبر کر دے عقیدت کے جلائے دیپ اس کے روبرو جانا وصالِ یار کو جانا تو ہو کر باوضو جانا جو دانہ خاک میں ملنے کو بھی تیار ہوتا ہے وہی اک دن گلابوں کی طرح گلزار ہوتا ہے جو عاشق جان دینے کیلئے تیار ہوتا ہے اسی کے بخت میں لکھا وصال یار ہوتا ہے اگر دینا پڑے جاتے ہوئے دل کا لہو جانا وصال یار کو جانا تو ہو کر باوضو جانا 73