خواب سراب

by Other Authors

Page 68 of 129

خواب سراب — Page 68

ابھی وہ لوگ باقی ہیں جو اپنے حادثوں کے دُکھ چھپائے مسکراتے ہیں جو بنجر موسموں میں بارشوں کے گیت گاتے ہیں جو کر کے ہاتھ زخمی راہ سے کانٹے اٹھاتے ہیں وہ جن کے ہاتھ میں دیپک دُعا کے جھلملاتے ہیں جو تتلی، پھول اور خوشبو کے موسم ساتھ لاتے ہیں ابھی وہ لوگ باقی ہیں جو اپنی ذات کی پر چھائی سے آگے نکل جائیں کسی کی آنکھ کے آنسو ستاروں سے بدل جائیں وہ جن کی مسکراہٹ دیکھ کر دیپک سے جل جائیں وہ جن کا نام سُن کر خواب جگمگ سے مچل جائیں وہ جن کو دیکھ کے سب درد کے سورج پگھل جائیں ابھی وہ لوگ باقی ہیں 68