خواب سراب — Page 61
مجھے بہشت بھی جانا نہیں تمہارے بغیر میں صاف صاف یہ کہتا ہوں استعارے بغیر مجھے بہشت بھی جانا نہیں تمہارے بغیر تو اُس کو چاہئے جا کر دکانداری کرے و شخص جو چاہتا ہو عشق بھی خسارے بغیر سند بھی چاہتے ہو اور امتحاں سے گریز سحر کی آرزو رکھتے ہو شب گزارے بغیر وہ حسن ہے کہ فسانہ طلسم ہوش ربا وہ جاں نکالتا ہے، وہ بھی جاں سے مارے بغیر میں اس لئے بھی دُعا پر یقین رکھتا ہوں کہ تم بھی سُنتے کہاں ہو مری، پکارے بغیر 61