خواب سراب — Page 57
تم سے کیا چھپانا ہے دولت قناعت ہے عشق کا خزانہ ہے ان گنت سی خوشیاں ہیں دل بھی شاعرانہ ہے دُکھ بھی کم نہیں لیکن انکا کیا بتانا ہے تم کیا چھپانا ہے دل کو بزمِ جاناں میں بیٹھنے مطلب ہے ایک چاند چہرے کو دیکھنے مطلب ہے شاعری اضافی ہے تم تو اک بہانہ ہے کیا چھپانا ہے 57