خواب سراب — Page 115
میرے دیس کو میلی آنکھ سے مت دیکھو ہر بندہ لشکر جیسا ہے، نہیں سمجھے؟ اُس نے میری بات کو ہنس کر ٹال دیا میں سمجھا تھا وہ سمجھا ہے، نہیں سمجھے؟ اُس کے بعد مسلسل موسم پت جھڑ ہے بخت ڈھلیں سب ڈھل جاتا ہے، نہیں سمجھے؟ آخری سانس سے پہلے میں نے یہ جانا ہر رشتہ سونے جیسا ہے، نئیں سمجھے؟ بچھڑے لوگ مبارک ڈھونڈتے پھرتے ہو بھول بھلیاں اور صحرا ہے، نئیں سمجھے؟ 115