خواب سراب

by Other Authors

Page 11 of 129

خواب سراب — Page 11

مبارک صدیقی کا اسلوب اور انداز گوسادہ معلوم ہوتا ہے اور ایک عام پڑھنے والا بھی اپنی ذہنی سطح کے مطابق اس سے مطلب اخذ کر کے آگے بڑھ جاتا ہے لیکن ایک نقاد کیلئے ان کے اشعار بہت سی پرتیں کھولتے چلے جاتے ہیں۔ایک کے بعد ایک نئی تہہ گھلتی جاتی ہے اور نئے معانی اور استعارے سمجھ میں آتے چلے جاتے ہیں۔جیسا کہ یہ شعر ملاحظہ ہو: لوگ سب مل کے اگر دیپ جلانے لگ جائیں اے سیاہ رات ترے ہوش ٹھکانے لگ جائیں قارئین کرام ! الفاظ کو اعجاز میں بدلنا آسان نہیں ! لیکن لفظوں سے معجز نمائی کرنے والے مبارک صدیقی ایسا کر گزرتے ہیں۔لفظ مسیحا ہیں تو مبارک صدیقی اس مسیحائی میں کمال رکھتے ہیں۔شعر اگر زندگی کا فہم و ادراک ہے تو مبارک صدیقی اس ادراک کی راہوں میں مشاق ہیں۔لفظوں کو زندگی دیتا اور احساسات کو قوت بیان عطا کرتا ان کا کلام اور ان کا ہنر نہ صرف الفاظ کو حیات بخشتا ہے بلکہ اپنے سُننے اور پڑھنے والوں کو بھی زندگی کے نئے ذائقے چکھاتا ہے۔ان کے اشعار بلاشبہ مسیحائی کا سا اثر رکھتے ہیں۔پڑھنے والا ان کے اشعار کے آئینے میں اپنے وجود کی ، اپنے افکار کی اور اپنے جنون کی تلاش کر سکتا ہے۔دیدہ بینا لئے ہوئے مبارک صدیقی باریکی سے چیزوں کے حسن کی تلاش اور کھوج میں لگا رہتا ہے اور اکثر ایسے پہلو کھوجنے میں کامیاب رہتا ہے جو عام آدمی کی نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ان کا یہ شعر انہی پر صادق آتا ہے کہ: 11