خواب سراب — Page 109
غزل عداوت میں خسارہ ہو گیا تو اگر طوفاں کنارہ ر گیا تو اُسے جزوی ضرورت ہے کسی کی اگر میں اس کا سارا ہو گیا تو ضرورت ہے اسے یکجائیوں کی میرا دل پارہ پارہ ہو گیا تو میں پہلے عشق سے نالاں بہت ہوں اگر مجھ کو دوبارہ ہو گیا تو مجھے ملنا نہیں ہے دشمنوں سے انہیں میں جاں سے پیارا ہو گیا تو مجھے خیرات میں بخشش ملے گی کوئی آنسو ستارہ ہو گیا تو 109