خواب سراب — Page 56
جانتا نہیں ہے اس کے بعد کی قیامتیں کہ اس کے بعد ہو چکی ہے کہکشاں اِدھر اُدھر میں کامیاب تھا تو یار لوگ میرے ساتھ تھے میں لٹ گیا تو ہو گئے وہ مہرباں اِدھر اُدھر لہو لہو سہی مگر میں بزم یار میں تو ہوں گزر گئے جو راہ میں تھے امتحاں اِدھر اُدھر خدا کو مانتے نہیں جو لوگ کون لوگ ہیں کہ اس کی ذات کے ہزار ہیں نشاں اِدھر اُدھر 56