خواب سراب

by Other Authors

Page 55 of 129

خواب سراب — Page 55

کبھی یقیں یہاں وہاں کبھی یقیں یہاں وہاں کبھی گماں اِدھر اُدھر نہ یوں کروں محبتوں کو رائیگاں اِدھر اُدھر سنا ہے وہ بچھڑ کے بھی نہال ہے، کمال ہے میرے لئے تو ہو گئے ہیں دو جہاں اِدھر اُدھر اُسے خبر تھی اُس کے ساتھ میرا نام آئے گا سو کر گیا وہ درمیاں سے داستاں اِدھر اُدھر میں اس لئے بھی عمر بھر نہ دل کی بات کہہ سکا کھڑے ہوئے تھے راہ میں فلاں فلاں اِدھر اُدھر میں چشم نم فگار پا، شکستہ دل دُعا دُعا وہیں کھڑا ہوں مڑ گیا تھا وہ جہاں اِدھر اُدھر 55