خواب سراب

by Other Authors

Page 21 of 129

خواب سراب — Page 21

اس سے مانگ کے دیکھ کبھی اُس سے مانگ کے دیکھ کبھی ، اے مور کھ سے انسان جو کہ جل تھل کر سکتا ہے، پیاس کے ریگستان جس خورشید کو دیکھ کے پگھلیں، برف کے بلتستان جس کا وصل مٹا دیتا ہے، ہجر کے راجستھان ساری دنیا چھوڑ چھاڑ کے، اُس سے جاکے مل رو رو اپنا حال سنا، اور رکھ قدموں میں دل پاؤں اُس کے پڑ کے کہنا، اے نوروں کے نور جس نے کاٹے کشٹ ہزاروں، میں ہوں وہ مزدور گرتے پڑتے آیا ہوں، میں گھائل کچور و چور کر دے گھپ اندھیرے مجھ سے ، میلوں صدیوں دور 21