خواب سراب — Page 20
مولا میں بے قرار ہوں اور چشم تر ہوں میں اندھا سا اک فقیر سر رہگزر ہوں میں سنتا ہوں تیری چاپ جدھر بس اُدھر ہوں میں بخشش کی بھیک مانگتا پھرتا ادھر ہوں میں میرے خیال و خواب سے ہے باخبر بھی تو منزل بھی تیری ذات ہے اور ہمسفر بھی تُو مولا وہ بھیک دے جو کرے باشمر مجھے جانے دے بے حساب ہی اور خاص کر مجھے اپنے کرم سے کر وہ عطا چشم تر مجھے دھو کر مرے گنہ جو کرے معتبر مجھے دشت طلب میں ایک مرا راہبر بھی تُو منزل بھی تیری ذات ہے اور ہم سفر بھی تُو 20